صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 452
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۵۲ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد میں موجود ہے (نہ ہماری نفسانی خواہش ) ہمارے ذہن میں مستحضر رہے۔ (۲) دوسری شرط یہ ہے کہ خون چونکہ بسبب اپنے زہریلے مادوں کے زیادہ مقدار میں نقصان دہ ہوتا ہے اس لیے جس قدر بھی ہو سکے وہ جانور کے جسم میں سے نکال دیا جائے۔ ان دو باتوں سے پھر ایسا جانور مسلمانوں کے لیے بطور خوراک کے حلال ہو جاتا ہے۔ (۳) لیکن ایک تیسری بات بھی ہے جس کو گو حلال ہونے سے تعلق نہیں مگر شفقت علی خلق اللہ اور اخلاق فاضلہ سے اس کا تعلق ضرور ہے وہ یہ کہ شریعت نے سب سے زیادہ رحم والا اور کم تکلیف دہ طریقہ ذبح کے لیے مقرر کر دیا ہے جیسے مثلاً یہ کہ چھری تیز ہو، گردن کے سامنے کی طرف پھیری جائے تاکہ بڑی بڑی رگیں یک دم کٹ جائیں یا اونٹ کو نحر کیا جائے تا کہ جلد سے جلد اس کا تمام خون جسم سے خارج ہو جائے اور چونکہ ذبح کا فعل بہ نسبت شکار کے دنیا میں بہت زیادہ کثرت سے ہوتا ہے اس لیے یہ تین مستقل قواعد اس کے لیے لازمی قرار دیے گئے اور انہیں ہر ذبح کے لیے بطور اصل کے مقرر فرما دیا گیا اور چونکہ یہ قانون بہترین اصولوں پر تھا اس لیے اس میں تبدیلی کی گنجائش نہیں ورنہ نقص لازم آئے گا اور وہ فوائد حاصل نہیں ہوں گے جن کے لیے قانون وضع کیا گیا تھا۔ ہاں یہ درست ہے کہ مشین سے بھی گردن کائی جاسکتی ہے اور تلوار سے بھی اور لاٹھی سے بھی ایک جانور مارا جا سکتا ہے اور گلا گھونٹ کر بھی لیکن ان سب باتوں میں کامل فوائد ذبح والے حاصل نہیں ہو سکتے۔ علاوہ بریں مختلف احکام شرعیہ کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے ایک مجمل عام حکم یہ بھی دے دیا کہ چونکہ ہمارا مقرر کردہ مذہب اسلام ایک کامل مذہب ہے اور اس کے اندر ہر بات کے متعلق ضروری ہدایات موجود ہیں پس آئندہ اے مسلمانو تم دیگر مذاہب کی نقلیں نہ کرنا ورنہ تکلیف پاؤ گے اور بعض فوائد سے محروم رہ جاؤ گے ہم نے تم کو کامل اور اعلی شریعت دے کر ناقص مذاہب کے محتاج نہیں رکھا اور سورہ انعام میں ارشاد فرما دیا کہ ان هذا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَضَكُمْ به لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ) مونَ (الأنعام: (۱۵۴) (یعنی جو راستہ میں نے تمہارے لیے تجویز کیا ہے یہی سیدھا راستہ ہے اسی پر تم چلا کرو اور دیگر مختلف مذاہب کے طریقوں پر نہ چلو کیونکہ وہ تم کو خدا کی مقرر کردہ فائدہ مند راہ سے الگ کر دیں گے ۔ یہ نصیحت اس لیے کی جاتی ہے