صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 449
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۴۹ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ وَمَا صِدْتَ کھاؤ اور جو تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ سے شکار کرو اللہ کا نام لو اور کھالو اور جو تم اپنے اس کتے کے ذریعہ سے شکار کرو جو سکھایا ہوا نہیں ذَكَاتَهُ فَكُلْهُ۔ أطرافه : ٥٤٧٨، ٥٤٨٨۔ ہے اس کو وقت پر ذبح کر لو تو اس کو بھی کھالو۔ ٥٤٩٧ : حَدَّثَنِي الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۵۴۹۷ مکی بن ابراہیم نے نے مجھ سے بیان کیا۔ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ انہوں نے کہا کہ یزید بن ابی عبید نے مجھ سے سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ لَمَّا أَمْسَوْا بیان کیا۔ انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع سے يَوْمَ فَتَحُوا خَيْبَرَ أَوْقَدُوا النِّيْرَانَ روایت کی۔ انہوں نے کہا: جس دن انہوں نے قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خیبر فتح کیا تو جب شام ہوئی تو انہوں نے آگیں عَلَامَ أَوْقَدْتُمْ هَذِهِ التِيْرَانَ قَالُوْا جلائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تم نے یہ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ قَالَ أَهْرِيقُوْا آئیں کن چیزوں کے پکانے کے لئے جلائی ہیں، لوگوں نے کہا: پالتو گدھوں کے گوشت کے لیے۔ مَا فِيْهَا وَاكْسِرُوْا قُدُوْرَهَا فَقَامَ رَجُلٌ آپ نے فرمایا: جو ان ہانڈیوں میں ہے اس کو انڈیل مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ نُهَرِيقُ مَا فِيْهَا دو اور اس گوشت کی ہانڈیوں کو بھی توڑ دو۔ لوگوں وَنَغْسِلُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: جو ان وَسَلَّمَ أَوْ ذَاكَ۔ ہانڈیوں میں ہے وہ انڈیل دیتے ہیں اور ان کو دھو لیتے ہیں۔ نبی صلی اللہ وسلم نے فرمایا: یا ایسا ہی کر لو۔ أطرافه : ٢٤٧٧، ٤١٩٦ ، ٦١٤٨، ٦٣٣١، ٦٨٩١۔ تشريح : آنِيَةُ الْمَجُوسِ وَالْمَيْتَةُ : مجوسیوں کے بر تن اور مردار، اہل کتاب کا کھانا کھانے پر بابو محمد افضل صاحب کے سوال پر حضرت اقدس نے جواب دیا کہ تمدن کے طور پر ہندووں کی چیز بھی کھا لیتے ہیں۔ اسی طرح عیسائیوں کا کھانا بھی درست ہے، مگر بایں ہمہ یہ خیال ضروری ہے کہ برتن پاک ہوں، کوئی ناپاک چیز نہ ہو۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحه (۹۷)