صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 435 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 435

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۳۵ -۷۲ - كتاب الذبائح والصيد سَرِيعُ الْحِسَابِ :(المائدة: (٥) وَقَالَ انہوں نے حاصل کیا۔تم ان کو وہ کچھ سکھاتے ہو ابْنُ عَبَّاسٍ إِنْ أَكَلَ الْكَلْبُ فَقَدْ جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے اس لئے جو وہ تمہارے أَفْسَدَهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَاللهُ لئے پکڑلیں ان سے کھاؤ اور اس پر اللہ کا نام لے يَقُوْلُ تُعَلِمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَيْكُمُ اللهُ لیا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اللہ یقیناً جلد فَتُضْرَبُ وَتُعَلَّمُ حَتَّى يَتْرُكَ۔وَكَرِهَهُ حساب لینے والا ہے۔اور حضرت ابن عباس نے ابْنُ عُمَرَ وَقَالَ عَطَاءٌ إِنْ شَرِبَ الدَّمَ کہا: اگر کتے نے کچھ کھا لیا ہو تو اس نے اس کو خراب کر دیا، اس نے تو صرف اپنے لئے ہی پکڑا وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ۔تھا اور اللہ (تعالی) فرماتا ہے: تم انہیں اس (علم) کے ذریعہ سے سکھاتے ہو جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے۔اس لئے اس کو مارنا چاہیے اور سکھانا چاہیے یہاں تک کہ وہ کھانے کی عادت چھوڑ دے۔اور حضرت ابن عمر نے ایسے شکار کو کھانا مکر وہ سمجھا۔اور عطاء بن ابی رباح) نے کہا: اگر اس نے خون پیا ہو اور کھایا نہیں تو تم اس کو کھاؤ۔٥٤٨٣: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۵۳۸۳: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ عَنْ بَيَانٍ بن فضیل نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بیان (بن بشر ) عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سے، بیان نے شعبی سے ،شبعی نے حضرت عدی سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بن حاتم سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے وَسَلَّمَ قُلْتُ إِنَّا قَوْمٌ نَصِيْدُ بِهَذِهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔میں نے کہا: الْكِلَابِ فَقَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ ہم ایسے لوگ ہیں کہ جو ان کتوں کے ذریعہ سے الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ مِمَّا شکار کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا: جب اپنے سدھائے أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ وَإِنْ قَتَلْنَ إِلَّا أَنْ کتے چھوڑو اور اللہ کا نام لے لو پھر جو تمہارے لئے