صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 434
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۳۴ -۷۲ - كتاب الذبائح والصيد سبب بن سکتا ہے۔یہ پھیپھڑوں، عضلات، تلی، گردہ اور سر کے اندرونی حصوں میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر اس کا علاج کرنا ممکن نہیں رہتا۔اسی طرح ایک اور رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا میں ۵۳۰۳ فیصد لوگ کسی نہ کسی طرح کتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ایک اور رپورٹ کے مطابق ہر سال ۴۰۷ ملین لوگ کتوں کے کاٹے کا شکار ہو جاتے ہیں۔جن میں سے سے فیصد مالک یا ان کے دوست ہوتے ہیں۔ایک ہسپتال کی ڈائریکٹر کے مطابق ان کے ہسپتال میں سالانہ چھ ہزار مریض ریبیز ( یعنی کتے کے کاٹنے ) کے آتے ہیں جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہوتی ہے۔ان کے مطابق صرف ایشیا میں ایک لاکھ لوگ سالانہ ریبیز کا شکار ہو جاتے ہیں۔مغرب میں نہ صرف قانون سازی کی گئی ہے بلکہ شعور بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ اپنے پالتو جانوروں کی ویکسی نیشن ضرور کروائی جائے تاکہ ممکنہ بیماریوں سے بچا جا سکے۔سویڈن میں انسانوں کی طرح قومی ڈیٹا بیس میں کتوں کا ریکارڈ بھی درج کیا جاتا ہے۔چائنہ میں ون ڈاگ پالیسی کا قانون بنایا گیا ہے خلاف ورزی کرنے والے کو دو ہزار یو آن جرمانہ کیا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ چالیس اقسام کے خون خوار کتوں پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔بھارت کے علاقہ چندی گڑھ میں کتا پالنے پر ۲۵۰ روپے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ان رپورٹس سے کتوں کے نقصانات کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔یہ حصہ مزید تحقیق اور شواہد کا متقاضی ہے۔سر دست اسی پر اکتفا کرتے ہوئے قارئین کی توجہ اس حصہ پر مبذول کرانا بھی ضروری ہے کہ کتوں کے ان فوائد کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جن کا جواز شکاری کتے اور حفاظت کی غرض سے پالے گئے کتے میں بیان کیا گیا ہے۔بَابِ ٧: إِذَا أَكَلَ الْكَلْبُ جب کتا کچھ کھالے وَقَوْلُهُ تَعَالَى يَسْتَلُونَكَ مَا ذَا أُحِلَّ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لَهُمْ قُلْ أَحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبتُ وَ مَا لئے کیا کچھ حلال کیا گیا ہے کہ تمہارے لئے تمام عَلَيْتُم مِنَ الْجَوَارِح (المائدة: (٥) پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور ان شکاری مُكَلِّبِينَ الْكَوَاسِبُ۔اجْتَرَحُوا جانوروں کا شکار بھی جائز ہے جن کو تم نے شکار کرنا اكْتَسَبُوْا تعلمونهنَّ مِمَّا عَلَيكُمُ اللهُ سکھایا ہو۔مُعَلِّبِينَ سے مراد شکار کرنے والے اور فَكُلُوا مِمَّا اَمْسَكنَ عَلَيْكُمْ إِلَى قَوْلِهِ پکڑنے والے جانور ہیں۔اجْتَرَحُوا کے معنی ہیں عمدة القاری میں اس جگہ "الصَّوَائِدُ وَالكَواسب“ کے الفاظ ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۱ صفحہ ۹۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔