صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 436
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ پکڑیں اسے کھاؤ گو وہ مار ڈالیں مگر اس وقت نہیں أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ وَإِنْ خَالَطَهَا کہ جب کتا اس میں سے کھائے کیونکہ میں ڈرتا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ۔ہوں کہیں اس نے اپنے لئے ہی پکڑا ہو۔اور اگر تمہارے کتوں کے ساتھ ان کے علاوہ دوسرے کتے بھی شامل ہو گئے ہوں تو پھر نہ کھاؤ۔أطرافه: ۱۷۵، ۲۰۰۱، ۷۵ ۷۶ ٥٤۷۷، ٥٤٨٤، ٥٤٨٥، ٥٤٨٦، ٥٤٨، ۷۳۹۷۔بَاب : الصَّيْدُ إِذَا غَابَ عَنْهُ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً شکار جب اس (شکاری) کو دو یا تین دن نہ ملے ٥٤٨٤ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۵۴۸۴ موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ ثابت حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيْدَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ بن یزید نے ہم سے بیان کیا۔عاصم بن سلیمان) عَنِ الشَّعْبِي عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعی سے،شیعی نے اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے، حضرت رَضِيَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ عدی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ وَسَمَّيْتَ فَأَمْسَكَ وَقَتَلَ فَكُلْ وَإِنْ نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو چھوڑو اور اللہ کانام لے لو پھر اس نے پکڑ لیا ہو اور مار ڈالے تم اس کو أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى کھاؤ اور اگر اس (کتے) نے کچھ کھا لیا ہو تو پھر نہ نَفْسِهِ وَإِذَا خَالَطَ كِلَابًا لَمْ يُذْكَرِ کماؤ کیونکہ اس نے اپنے لئے پکڑا ہے اور اگر اسْمُ اللهِ عَلَيْهَا فَأَمْسَكْنَ فَقَتَلْنَ فَلَا (وہ کتا) ایسے کتوں کے ساتھ مل گیا ہو کہ جن کو تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَ وَإِنْ چھوڑتے وقت اللہ کا نام نہیں لیا گیا اور پھر وہ کچھ رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَوَجَدْتَهُ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ پکڑلیں اور مار ڈالیں تو نہ کھاؤ کیونکہ تم نہیں جانتے يَوْمَيْنِ لَيْسَ بِهِ إِلَّا أَثَرُ سَهْمِكَ فَكُلْ کہ ان میں سے کس نے مارا اور اگر تم نے شکار کو