صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 430
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۳۰ -۷۲ - كتاب الذبائح والصيد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے ایک شخص نے مسئلہ پوچھا: مرغی کی گردن بلی اُتار کر لے گئی۔مرغی پھڑک رہی ہے ذبح کر لی جائے ؟ فرمایا:۔”ایسے مسائل میں اصول کے طور پر یاد رکھو کہ دین میں صرف قیاس کرنا سخت منع ہے۔قیاس وہ جائز ہے جو قرآن و حدیث سے مستنبط ہو۔ہمارا دین منقولی طور سے ہمارے پاس پہنچا ہے۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث ثابت ہو جائے تو خیر ور نہ کیا ضرورت ہے دو چار آنے کے لئے ایمان میں خلل ڈالنے کی۔لَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ الْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَكَ وَهُذَا حَرَامُ (النحل : ۱۱۷) (ملفوظات جلد پنجم صفحه ۶۳۰) بَابه : الْحَذْفُ وَالْبُنْدُقَةُ چھوٹے سنگریزوں سے اور بندوق سے شکار کرنا ٥٤٧٩ : حَدَّثَنِي يُوْسُفُ بْنُ رَاشِدِ :۵۴۷۹ یوسف بن راشد نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وسیع اور یزید بن ہارون نے ہمیں بتایا۔الفاظ یزید وَاللَّفْظُ لِيَزِيدَ عَنْ كَهْمَسِ بْنِ کے ہیں۔ان دونوں نے کہمس بن حسن سے، الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن بُرَيْدَةَ عَنْ کس نے عبد اللہ بن بریدہ سے، عبد اللہ نے عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلِ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا حضرت عبد اللہ بن مغفل سے روایت کی۔انہوں يَحْذِفُ فَقَالَ لَهُ لَا تَحْذِفْ فَإِنَّ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ چھوٹے چھوٹے پتھر رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پھینک رہا تھا تو انہوں نے اس سے کہا: پتھر نہ پھینکو نَهَى عَنِ الْخَلْفِ أَوْ كَانَ يَكْرَهُ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پتھروں الْخَذْفَ وَقَالَ إِنَّهُ لَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ کے پھینکنے سے روکا ہے یا آپ ان پتھروں کے وَلَا يُنْكَى بِهِ عَدُوٌّ وَلَكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ پھینکنے کو نا پسند کرتے تھے اور فرمایا کہ ان سے کوئی السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ شکار نہیں ہوتا اور نہ کسی دشمن کو خراش پہنچتی ہے۔يَعْذِفُ فَقَالَ لَهُ أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُوْلِ البته دانت توڑ دیتے ہیں اور آنکھ پھوڑ دیتے ہیں۔اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى پھر حضرت عبد اللہ بن مغفل نے اس کو ان چھوٹے الْخَذْفِ أَوْ كَرِهَ الْخَذْفَ وَأَنْتَ پتھروں کو چھینکتے دیکھا تو انہوں نے اس سے کہا: عن