صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 431 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 431

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۳۱ -۷۲ - كتاب الذبائح والصيد تَخْذِفُ لَا أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا۔میں تم کو رسول اللہ صل اللی کام سے روایت کرتے ہوئے یہ بات بتاتا ہوں کہ آپ نے ان پتھروں کے پھینکنے سے روکا یا (کہا) نا پسند کیا اور تم پتھر پھینکتے أطرافه: ٤٨٤١، ٦٢٢٠ - ہو میں تم سے اتنی مدت تک بات نہیں کروں گا۔تشریح: الخَذَفُ وَالْمُندُقَةُ: چھوٹے سنگریزوں سے اور بندوق سے شکار کرنا۔حضرت مرزا بشیراحمد صاحب تحریر فرماتے ہیں: ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ غلیل سے جو پرندے مارے جاتے ہیں۔ان کی بابت حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ تکبیر پڑھ کر مار لیا کرو اور فرماتے تھے کہ غلیل اور بندوق کا حکم بھی تیر کی طرح ہے۔یعنی اگر جانور ذبح سے پہلے ہی مر جائے تو وہ حلال ہے۔یہ ذکر اس بات پر چلا تھا کہ بھائی عبد الرحیم صاحب اکثر پرندے غلیل سے مار کر لایا کرتے تھے۔میں نے عرض کیا کہ کئی پرندے وہیں ذبح سے پہلے مر جاتے ہیں۔تو بھائی جی ان کو حرام سمجھ کر چھوڑ آتے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ تکبیر پڑھ کر مار لیا کریں۔پھر اگر ذبح سے پہلے مر بھی جائیں تو جائز ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی جانور ذبح کرنے سے پہلے مر جاوے یعنی اس کے ذبح کرنے کا موقع نہ ملے تو تکبیر پڑھنے کی صورت میں وہ جائز ہے یہ مراد نہیں کہ ذبیح کا موقعہ ہو مگر پھر بھی ذبح نہ کیا جائے۔“ (سیرت المہدی روایت نمبر ۶۲۹ ، جلد اول حصہ سوم صفحه ۶۰۰،۵۹۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ بندوق کی گولی سے جو حلال جانور ذبح کرنے سے پہلے مر جائے اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔گولی چلانے سے پہلے تکبیر پڑھ لینی چاہیے۔پھر اس کا کھانا جائز ہے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحه ۱۳۶)