صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 426
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۲۶ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد بَاب ٢ : صَيْدُ الْمِعْرَاضِ چپٹی چیز کے ساتھ شکار کرنا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فِي الْمَقْتُولَةِ بِالْبُنْدُقَةِ اور حضرت ابن عمرؓ نے اس جانور کے متعلق کہا جو تِلْكَ الْمَوْقُوذَةُ وَكَرِهَهُ سَالِمٌ علیل سے مارا گیا ہو کہ وہ بھی مَوْقُوذَةُ ہے۔اور وَالْقَاسِمُ وَمُجَاهِدٌ وَإِبْرَاهِيْمُ وَعَطَاء سالم اور قاسم اور مجاہد اور ابراہیم اور عطاء (بن وَالْحَسَنُ، وَكَرِهَ الْحَسَنُ رَمْيَ الى رباح) اور حسن (بصری) نے اس شکار کو مکر وہ الْبُنْدُقَةِ فِي الْقُرَى وَالْأَمْصَارِ وَلَا جاتا ہے۔اور حسن (بصری) نے گاؤں اور شہروں يَرَى بَأْسًا فِيْمَا سِوَاهُ۔میں غلیل چلانے کو ناپسند کیا اور ان کے سوا اور جگہوں میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے۔٥٤٧٦ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۵۴۷۶ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد اللہ بن ابی سفر السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ہے، عبد اللہ نے شیعی سے روایت کی۔انہوں نے عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ست۔وہ کہتے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شکار کے متعلق پوچھا جو کسی چپٹی چیز سے وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ إِذَا أَصَبْتَ بِحَدِهِ فَكُلْ فَإِذَا أَصَابَ مارا جائے؟ آپ نے فرمایا: اگر تو تم نے اس کی دھار سے مارا ہو تو کھاؤ اور اگر اس کی چپٹی طرف سے بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيْدٌ فَلَا تَأْكُلْ پڑے اور اس کو مار ڈالے تو یہ مَوْقُوذَة ہے اس فَقُلْتُ أُرْسِلْ كَلْبِي قَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ تُو نہ کھاؤ۔میں نے پوچھا: میں اپنے کتے کو چھوڑ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ فَكُلْ قُلْتُ فَإِنْ دوں تو؟ آپ نے فرمایا: جب تم اپنا کتا چھوڑو اور أَكَلَ قَالَ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّهُ لَمْ يُمْسِكْ الله کا نام لو تو کھاؤ۔میں نے پوچھا: اگر وہ کتا عَلَيْكَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ قُلْتُ کھالے تو؟ آپ نے فرمایا: پھر اس کو نہ کھاؤ کیونکہ أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ اس نے وہ تمہارے لئے نہیں پکڑا بلکہ اپنے لئے