صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 417 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 417

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۱۷ ا - كتاب العقيقة صاحب مقدرت ہے اگر کوئی شخص دو بکروں کے خریدنے کی طاقت نہیں رکھتا اور ایک خرید سکتا ہے تو اس کے واسطے جائز ہے کہ ایک ہی ذبح کرے اور اگر ایسا ہی غریب ہو کہ وہ ایک بھی قربانی نہیں کر سکتا تو اس پر فرض نہیں کہ خواہ مخواہ قربانی کرے مسکین کو معاف ہے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۳۶۹) عقیقہ کی نسبت سوال ہوا کہ کس دن کرنا چاہیے ؟ فرمایا:۔ساتویں دن۔اگر نہ ہو سکے تو پھر جب خدا تعالیٰ توفیق دے۔ایک روایت میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عقیقہ چالیس سال کی عمر میں کیا تھا۔ایسی روایات کو نیک ظن سے دیکھنا چاہئیے۔جب تک قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے خلاف نہ ہوں۔بَاب ٣ : الْفَرَعُ فرع یعنی اونٹنی کا پلوٹھا بچہ <E (ملفوظات جلد پنجم صفحه ۴۴۱، ۴۴۲) ٥٤٧٣ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا ۵۴۷۳: عبد ان نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ( بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کہ زہری نے ہمیں بتایا۔زہری نے (سعید) بن رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ میب سے سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيْرَةَ عنہ سے حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانُوا يَذْبَحُوْنَهُ سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: نہ اب فرع ہے لِطَوَاغِيتِهِمْ وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ۔اور نہ عتیرہ۔اور فرع پہلے جنم کا بچہ ہے جسے وہ اپنے پنڈتوں وغیرہ کے لئے ذبح کیا کرتے تھے اور عتیرہ وہ قربانی ہے جو وہ رجب میں کیا کرتے تھے۔طرفة : ٥٤٧٤-