صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 368 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 368

صحیح البخاری جلد ۱۳ ٧٠ - كتاب الأطعمة (لسان العرب - ثرد) (اقرب الموارد - ثرد) مگر جو ثرید مجھے عربی ممالک میں کھانے کا موقع ملا ہے وہ گندم اور دیگر حبوب کی اکثر اجناس کا کوفتہ و بیختہ گوشت کے شوربے میں پختہ تیار کردہ مالیدہ سا ہوتا ہے جس میں بادام و پستہ بھی ڈالا جاتا ہے اور کھانے میں نہایت لذیذ کھانا ہے جو اس ملک میں کھایا جاتا ہے۔( صحیح بخاری ترجمہ و شرح، جلدے صفحہ ۲۵۵) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: طرز زندگی کے لحاظ سے عربوں کی خوراک و لباس اور عام بود و باش نہایت سادہ اور ابتدائی تھی۔عام خوراک عربوں کی اونٹوں اور بکریوں کا دُودھ اور کھجور تھی۔جو کے ستو بھی عموماً استعمال ہوتے تھے۔ذی ثروت لوگ گوشت بھی کھاتے تھے اور اونٹ یا بکری کے بھنے ہوئے گوشت کو بہت پسند کیا جاتا تھا۔شوربے میں روٹی کو بھگو کر کھانا ایک اعلیٰ قسم کی غذا سمجھی جاتی تھی جسے عرب لوگ شرید کہتے تھے۔(سیرت خاتم النبیین صل اللام صفحہ ۵۷) حَدَّثَنَا بَاب ٢٦ : شَاةٌ مَسْمُوْطَةٌ وَالْكَتِفُ وَالْجَنْبُ (سموچی) دم پختہ ہوئی بکری اور شانہ اور پہلی ٥٤٢١ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ۵۴۲۱ بد به بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ بن يحجي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم حضرت انس بن اللهُ عَنْهُ وَخَبَّاؤُهُ قَائِمٌ قَالَ كُلُوْا فَمَا مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کرتے۔ان کا أَعْلَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نان بائی کھڑا ہو تا۔حضرت انس کہتے: کھاؤ مجھے رَأَى رَغِيْفًا مُرَفَّقًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ وَلَا علم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت رَأَى شَاةً سَمِيْطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ۔تک کہ آپ اللہ سے جاملے، پتلی چپاتی دیکھی بھی ہو اور نہ کبھی (سموچی) دم پختہ بکری دیکھی ہو۔أطرافة ٥٣٨٥ ٦٤٥٧- ٥٤٢٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلِ :۵۴۲۲: محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَن عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔معمر نے