صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 366 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 366

صحیح البخاری جلد ۱۳ ٧٠ - كتاب الأطعبة صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ التَّلْبِيْنَةُ ڈالا جاتا۔پھر کہتیں: اسے کھاؤ کیونکہ میں نے مُحِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تَذْهَبُ بِبَعْضٍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ تلبینہ بیمار کے دل کی طاقت کو بحال کر دیتا ہے اور غم کو کسی قدر غلط کرتا ہے۔الْحُزْنِ۔أطرافه: ٥٦٨٩ ٥٦٩٠- شریح : التَّلْبِينَةُ : علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں: تلبینہ وہ کھانا ہے جو آئے یا چھان سے تیار کیا جاتا ہے۔بعض اوقات اس میں شہد بھی ڈالا جاتا ہے۔سفید اور پتلا ہونے نیز دودھ کے مشابہ ہونے کی وجہ سے اسے تلبینہ کہتے ہیں۔جو تلبینہ پتلا اور پکا ہوا ہو وہ زیادہ مفید ہوتا ہے بنسبت اس کے جو کچا اور گاڑھا ہو۔ابن اثیر کہتے ہیں کہ تلبینہ وہ کھانا ہے جو آٹے میں پانی اور تیل ڈال کر بنایا جاتا ہے اور اس کو گھونٹ گھونٹ کر کے پیا جاتا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۱ صفحه ۵۴،۵۳) بَاب ٢٥ : الشَّرِيْدُ شرید ٥٤١٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۵۳۱۸: محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو سے بیان کیا۔شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بْنِ مُرَّةَ الْجَمَلِيِّ عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِي عمرو بن مرہ جملی سے ، عمرو نے مرہ ہمدانی سے، مرہ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے ،حضرت ابو موسیٰ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَمَلَ مِنَ اشعری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ آپ نے فرمایا: مر دوں میں سے بہت کامل ہوئے إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ ہیں اور عورتوں میں سوائے مریم بنت عمران اور آسیہ فرعون کی بیوی کے کوئی کامل نہیں ہوئی۔اور فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الشَّرِيْدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ۔أطرافه : ٣٤١١ ٣٤٣٣، ٣٧٦٩۔عائشہ کی فضیلت باقی عورتوں پر ایسی ہے جیسی شرید کی فضیلت باقی کھانوں پر۔٥٤١٩ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ :۵۴۱۹: عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ خالد