صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 347 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 347

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۴۷ ٧٠ - كتاب الأطعمة إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعَى وَاحِدٍ گیا تو آپ نے فرمایا: مؤمن ایک ہی آنت میں وَالْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ۔ کھاتا ہے اور کا فرسات آنتوں میں۔ طرفه ٥٣٩٦ تشريح الله الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعَى وَاحِدٍ: مؤمن ایک ہی آنت میں کھاتا ہے۔ مومن اور کافر کے فرق میں ان روایات میں ایک بات یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ مومن کم کھاتا ہے جبکہ کافر زیادہ۔ اور اس کی وجہ مومن کا تقبل الی اللہ اور زہد ہے جبکہ کافر کی زندگی کا ماحاصل لذات دنیا ہے۔ ان روایات کے پس منظر میں ایک واقعہ ثمامہ بن اثال کا بیان کیا گیا ہے جس کی دو حالتوں کا ذکر ہے ایک قبل از اسلام اور ایک بعد از اسلام۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: اس دن شام کو جب حسب دستور حمامہ کے لئے کھانا آیا تو اس نے تھوڑا سا کھانا کھا کر چھوڑ دیا۔ جس پر صحابہ نے تعجب کیا کہ آج صبح تک تو ثمامہ بہت زیادہ کھاتا رہا ہے اور گویا پیٹو تھا لیکن اب اس نے بہت تھوڑا کھانا کھایا ہے۔ یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا۔ صبح تک تمامہ کافروں کی طرح کھانا کھاتا تھا اور اب اس نے ایک مسلمان کی طرح کھایا ہے۔ اور آپؐ نے اس کی تشریح یوں فرمائی کہ ” کا فرسات آنتوں میں کھانا کھاتا ہے مگر مسلمان صرف ایک آنت میں کھاتا ہے۔“ اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ جہاں ایک کافر تو دنیوی لذات میں انتہاک ہوتا ہے اور گویا وہ اسی میں غرق رہتا ہے وہاں ایک سچا مسلمان اپنی جسمانی ضروریات کو صرف اس حد تک محدود رکھتا ہے جو زندگی کے قیام کے لئے ہے اسے کے لئے ضروری ہے کیونکہ اسے حقیقی لذت صرف دین میں حاصل ہوتی ہے۔ یہ یہ رکھنا چاہئے کہ اس جگہ سات کے عدد سے حسابی عدد مراد نہیں ہے بلکہ عربی محاورہ کی رو سے سات کا عدد کثرت اور تکمیل کے اظہار کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ گویا مراد یہ ہے کہ ایک کافر دنیوی لذات میں غرق رہتا ہے اور اس کی ساری توجہ دنیا میں صرف ہوتی ہے مگر ہے۔ یہ بھی یاد ایک مومن اپنے آپ کو دنیوی لذات سے روک کر رکھتا ہے اور ضرورت حقہ کی حد سے آگے نہیں گزرتا کیونکہ اس کی حقیقی لذات کا میدان اور ہے۔ تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فطری میلان اور آپ کے ذاتی خلق کا ایک نہایت سچا آئینہ ہے۔“ (سیرت خاتم النبیین صلی ال، صفحہ ۷۵۱،۷۵۰)