صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 341 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 341

صحیح البخاری جلد ۱۳ تشریح ٧٠ - كتاب الأطعمة الخبرُ الْمُرَقِّقُ وَالْأَكلُ عَلَى الْخَوَانِ وَالسُّفْرَةِ: میدہ کی باریک چپاتیاں اور خوان اور دستر خوان پر کھانا۔باب ھذا کی روایات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی اور بے نفسی کا عالم بیان کیا گیا ہے کہ شاہ دو جہاں ہوتے ہوئے جب سب کچھ آپ کے تحت اقدام آسکتا تھا آپ نے دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے کنارہ کشی کی۔تقبل اور زہد کی وہ اعلیٰ مثال قائم کی جو ہمیشہ کے لیے ایک عظیم اسوہ اور قابل تقلید نمونہ کے طور پر مینارہ نور بنی رہے گی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اور جو اخلاق، کرم اور جود اور سخاوت اور ایثار اور فتوت اور شجاعت اور زہد اور قناعت اور اعراض عن الدنیا کے متعلق تھے۔وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک میں ایسے روشن اور تاباں اور درخشاں ہوئے کہ مسیح کیا بلکہ دنیا میں آنحضرت سے پہلے کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس کے اخلاق ایسی وضاحت تامہ سے روشن ہو گئے ہوں۔کیونکہ خدائے تعالیٰ نے بے شمار خزائن کے دروازے آنحضرت پر کھول دیئے۔سو آنجناب نے ان سب کو خدا کی راہ میں خرچ کیا اور کسی نوع کی تن پروری میں ایک حبہ بھی خرچ نہ ہوا۔نہ کوئی عمارت بنائی۔نہ کوئی بار گاہ طیار ہوئی۔بلکہ ایک چھوٹے سے کچے کو ٹھے میں جس کو غریب لوگوں کے کوٹھوں پر کچھ بھی ترجیح نہ تھی۔اپنی ساری عمر بسر کی۔بدی کرنے والوں سے نیکی کر کے دکھلائی اور وہ جو دل آزار تھے ان کو ان کی مصیبت کے وقت اپنے مال سے خوشی پہنچائی۔سونے کے لئے اکثر زمین پر بستر اور رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا۔اور کھانے کیلئے نان جو یا فاقہ اختیار کیا۔دنیا کی دولتیں بکثرت ان کو دی گئیں پر آنحضرت نے اپنے پاک ہاتھوں کو دنیا سے ذرا آلودہ نہ کیا۔اور ہمیشہ فقر کو تو نگری پر اور سکینی کو امیری پر اختیار رکھا۔اور اس دن سے جو ظہور فرمایا تا اس دن تک جو اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔بجز اپنے مولیٰ کریم کے کسی کو کچھ چیز نہ سمجھا۔“ ( براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد اوّل، حاشیہ نمبر ۱ اصفحه ۲۹۰،۲۸۹)