صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 342
صحیح البخاری جلد ۱۳ ٧٠ - كتاب الأطعمة بَاب : السَّوِيقُ ستو ٥٣٩٠ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۵۳۹۰: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ بُشَيْرِ حماد بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بچی بْنِ يَسَارٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ أَنَّهُ (بن سعيد انصاری) سے ، بچی نے بشیر بن یسار سے، أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى بشیر نے موید بن نعمان سے روایت کی۔ انہوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ عَلَى نے ان کو بتایا کہ وہ بھی صہباء میں نبی صلی اللہ رَوْحَةٍ مِنْ خَيْبَرَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تھے اور یہ خیبر سے اتنے فَدَعَا بِطَعَامٍ فَلَمْ يَجِدْهُ إِلَّا سَوِيْقًا فاصلے پر ہے کہ شام کو انسان وہاں جا پہنچتا ہے۔ نماز فَلَاكَ مِنْهُ فَلُكْنَا مَعَهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ کا وقت آگیا تھا۔ آپؐ نے کھانا منگوایا مگر سوائے فَمَضْمَضَ ثُمَّ صَلَّى وَصَلَّيْنَا وَلَمْ ستو کے آپ نے کوئی کھانا نہ پایا۔ آپؐ نے اسی کو يَتَوَضَّأْ۔ منہ میں اِدھر اُدھر پھیر کر کھایا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ ایسے ہی کھائے۔ پھر آپ نے پانی منگوایا اور کلی کی۔ پھر آپؐ نے نماز پڑھی اور ہم نے بھی نماز پڑھی اور آپ نے وضو نہیں کیا۔ أطرافه : ۲۰۹، ۲۱۵ ، ۲۹۸۱، ٤۱۷۵، ٤١٩٥، ٥٣٨٤، ٥٤٥٤، ٥٤٥٥۔ بَاب ۱۰ : مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ حَتَّى يُسَمَّى لَهُ فَيَعْلَمُ مَا هُوَ نبی نہ صلی اللہ علیہ وسلم کھایا نہ کرتے تھے جب تک کہ آپ کو نام لے کر نہ بتایا جاتا اور آپ کو علم نہ ہو جاتا کہ کیا کھانا ہے ٥٣٩١: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ۵۳۹۱: ابوالحسن محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ أَخْبَرَنَا کیا کہ عبد اللہ بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ