صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 340
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۴۰ ٧٠ - كتاب الأطعبة اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحَدِهِمَا جس کو میں نے درمیان سے پھاڑ کر دو ٹکڑے کر وَجَعَلْتُ فِي سُفْرَتِهِ آخَرَ قَالَ فَكَانَ دیا اور ان میں سے ایک سے رسول اللہ صلی اللہ أَهْلُ الشَّامِ إِذَا عَيْرُوْهُ بِالنِّطَاقَيْنِ علیہ وسلم سے مشکیزہ کا منہ باندھا اور دوسرے کو يَقُوْلُ إِيْهَا وَالْإِلَهِ تِلْكَ شَكَاةٌ ظَاهِرٌ آپ کا توشہ باندھنے کے لئے استعمال کیا۔وہب کہتے تھے کہ اہل شام جب ان کو نطاقین کا طعنہ دیتے تو کہتے چپ رہو۔اللہ کی قسم ! یہ تو ایک ایسا شکوہ ہے جس کا عیب تم سے پوشیدہ نہیں بلکہ کھلا عَنْكَ عَارُهَا۔أطرافه : ۲۹۷۹، ۳۹۰۷ کھلا ہے۔٥٣٨٩: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۵۳۸۹: ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو بشر سے، ابو بشر نے بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أُمَّ حُفَيْدٍ سعيد بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنٍ خَالَةَ ابْنِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا) کہ حضرت عَبَّاسٍ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ ام حفید بنت حارث بن حزن نے جو حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضَبًا فَدَعَا ابن عباس کی خالہ تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی بِهِنَّ فَأُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَتَرَكَهُنَّ اور پنیر اور سوسمار (گوہ) تحفہ بھیجیں۔آپ نے ان النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے کھانے کے لئے (لوگوں کو) بلایا اور وہ آپ كَالْمُتَقْذَرِ لَهُنَّ وَلَوْ كُنَّ حَرَامًا مَا کے دستر خوان پر کھائی گئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَةِ النَّبِيِّ صَلَّى الله نے انہیں چھوڑ دیا جیسے آپ کو ان سے کراہت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ۔ہو۔اور اگر سوسمار (گوہ) حرام ہوتیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتیں اور نہ أطرافة: ٢٥٧٥، ٥٤٠٢، ٧٣٥٨۔آپ اُن کے کھانے کا حکم دیتے۔