صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 329
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۲۹ ٧٠ - كتاب الأطعمة أَبِيْهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ بتایا۔انہوں نے اشعث ( بن سلیم) سے، اشعث اللهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے مسروق سے، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت فِي طُهُوْرِهِ وَتَنَعْلِهِ وَتَرَجُلِهِ۔وَكَانَ کی۔وہ بیان کرتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں قَالَ بِوَاسِطٍ قَبْلَ هَذَا فِي شَأْنِهِ كُلِهِ تک ہو سکتا نہانے وغیرہ میں، جوتا پہنے اور کنگھی کرنے میں دائیں سے شروع کرنے کو پسند کرتے۔أطرافه : ١٦٨، ٤٢٦، ٥٨٥٤، ٥٩٢٦۔(شعبہ نے کہا : ) اس حدیث کا راوی جب اس سے پہلے واسط میں تھا تو اس نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ اپنے ہر ایک کام میں۔التَّيَمُّنُ فِي الْأَكْلِ وَغَيْرِهِ : کھانے وغیرہ میں دائیں ہاتھ کو استعمال کرنا۔حضرت مصلح موعود مريح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "شریعت کے بعض احکام بظاہر چھوٹے چھوٹے نظر آتے ہیں لیکن اگر ان پر غور کیا جائے تو ان میں اتنی اہمیت ہوتی ہے کہ ان کا ترک کرنا قومی کیریکٹر کو خراب کر دیتا ہے مثلاً اسلام کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کام میں دائیں کو بائیں پر ترجیح دی ہے۔پانی پیتے وقت دائیں کو ترجیح دی ہے، کھانا کھاتے وقت دائیں کو ترجیح دی ہے، وضو کرتے وقت دائیں کو ترجیح دی ہے ، نہاتے وقت دائیں کو ترجیح دی۔غرض جتنے اہم کام ہیں ان میں آپ نے دائیں کو ترجیح دی ہے سوائے ایسے کاموں کے جن کے اندر ناپاکی کا کچھ پہلو ہو ان میں بائیں کو رکھا ہے مثلاً طہارت بائیں ہاتھ سے کرنی چاہئے۔یہ جو دائیں کو فوقیت حاصل ہے یہ صرف انسانوں ہی میں نہیں بلکہ اکثر جانوروں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے ان میں سے بھی اکثر دائیں ہاتھ سے ہی کام کرتے ہیں۔گو وہ انسان کی طرح تو نہیں کرتے مگر دائیں سے کام کرنے کی رغبت ان میں بھی پائی ضرور جاتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو گھوڑا اگر کھڑا ہو اور اُس کو چلانا چاہو تو وہ پہلے اپنا دایاں پیر استعمال کرتا ہے، بعض اور جانور بھی دائیں کو استعمال کرتے ہیں، شیر جب بھی پنجہ مارتا