صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 324
صحیح البخاری جلد ۱۳ ٧٠ - كتاب الأطعبة نہ ہو، مضر صحت نہ ہو ، جو ساتھ کھانا کھانے والے لوگ ہوں ان کی طبائع کے خلاف نہ ہو۔“ ( تفسیر کبیر ، سورة البقرة زیر آیت يَايُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِنَا فِي الْأَرْضِ حَلَلا طيبا، جلد دوم صفحه ۳۳۱، ۳۳۲) بَاب ٢ : التَّسْمِيَةُ عَلَى الطَّعَامِ وَالْأَكْلُ بِالْيَمِيْنِ کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا اور دائیں ہاتھ سے کھانا ٥٣٧٦: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۵۳۷۶ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا، کہا: ولید بن کثیر أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَمِعَ وَهُبَ بْنَ كَيْسَانَ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے وہب بن کیسان سے أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ يَقُوْلُ سنا۔وہب نے حضرت عمر بن ابی سلمہ کو یہ کہتے كُنْتُ غُلَامًا فِي حَجْرٍ رَسُوْلِ اللهِ سنا کہ میں ابھی لڑکا ہی تھا، رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ يَدِي علیہ وسلم کی پرورش میں تھا اور میرا ہاتھ (کھانے تَطِيْسُ فِي الصَّحْفَةِ فَقَالَ لِي رَسُوْلُ کے وقت) رکابی میں ادھر اُدھر سے لیتارہتا۔مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے اللہ کا نام اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا غُلَامُ سم اللهَ وَكُلْ بِيَمِيْنِكَ وَكُلْ مِمَّا لے لیا کرو اور اپنے داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور وہاں سے کھاؤ جو تمہارے نزدیک ہے۔پھر ( آپ کے ) يَلِيْكَ فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِي بَعْدُ۔بعد یہی میرے کھانے کا طریق رہا۔أطرافه: ۵۳۷۷، ۵۳۷۸ ريح التَّسْمِيَةُ عَلَى الطَّعَامِ وَالأَكُلُ بِالْيَمِينِ: کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا اور دائیں ہاتھ سے کھانا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اچھا کام بسم اللہ سے شروع کرنا چاہئے۔یعنی کسی کام کے شروع کرنے سے پہلے اپنی نیت کو درست کر کے صرف خدا تعالیٰ کے لئے ہی کر لینی چاہئے۔پھر فرماتے ہیں اگر کوئی بھول جائے مثلاً کھانا کھانے لگا ہے اُس وقت بسم اللہ کہنا بھول جائے مگر کھانا کھاتے ہوئے یاد آجائے تو اس وقت نیت کر کے کہے۔بسم اللہ فی آولِهِ وَآخِرِہ یعنی پہلے بھول گیا تھا۔ایک بشیر اللہ تو بھولنے کی کہتا ہوں