صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 323 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 323

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۲۳ ٧٠ - كتاب الأطعبة مال طیب کہا جائے تو اس کے معنے ہوتے ہیں ایسا مال جو شرعی لحاظ سے حلال ہو۔(اقرب) پھر لکھا ہے: وَأَصْلُ الطيب مَا تَسْتَلِثُهُ الْحَوَاسُ وَمَا تَسْتَلِثُهُ النَّفْسُ اور در حقیقت طیب اس چیز کو کہتے ہیں جسے انسانی حواس لذیذ قرار دیں اور جس سے انسان کا دل لطف اندوز ہو۔پس آیت کے یہ معنے ہونگے کہ ایسی چیزیں کھاؤ جو شرعی لحاظ سے حلال ہوں اور ظاہری لحاظ سے بھی تم انہیں لذیذ اور پسندیدہ سمجھو۔“ ( تفسير كبير، سورة البقرة زير آيت يَاأَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَللًا طَيِّبًا، جلد دوم صفحه ۳۳۱) نیز اس آیت کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن مجید نے سب سے پہلے حلال اور طیب کھانے کی تعلیم کو لیا ہے کیونکہ انسانی اعمال اس کی ذہنی حالت کے تابع ہوتے ہیں اور ذہنی حالت غذا سے متاثر ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے لوگو ! جو کچھ زمین میں ہے اُس میں سے حلال اور طیب اشیاء کا استعمال کرو۔یعنی تم صرف یہی نہ دیکھا کرو کہ جو کچھ تم کھا رہے ہو وہ حلال ہے یا نہیں بلکہ یہ بھی دیکھ لیا کرو کہ وہ طیب بھی ہے یا نہیں۔اگر کسی چیز کا کھانا تمہارے مناسب حال نہ ہو خواہ اس لحاظ سے کہ وہ تمہاری صحت کے لئے مضر ہو یا اس لحاظ سے کہ ملکی اور قومی حالات کی وجہ سے تمہیں اُس کے کھانے کی عادت نہ ہو یا اس وجہ سے کہ تمہاری طبیعت اُس سے انقباض محسوس کرتی ہو۔تو تم محض یہ دیکھ کر کہ شریعت نے اسے حلال قرار دیا ہے اُسے مت کھاؤ۔کیونکہ تمہارے لئے کھانے میں صرف حرام و حلال کا امتیاز مد نظر رکھنا ہی ضروری نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ تم ایسی چیزوں کا انتخاب کیا کرو جو تمہاری طبیعت اور تمہارے ماحول اور تمہارے معمول کے مطابق ہوں اور جن کا کوئی مضر اثر تم پر پڑنے کا امکان نہ ہو۔مثلاً نزلہ اور زکام اور کھانسی میں ترش اشیاء کا استعمال کھانسی کو اور بھی بڑھا دیتا ہے اب اگر کوئی شخص کھانسی میں ترش میوے استعمال کرتا ہے یا اسہال میں گوشت روٹی استعمال کرتا ہے یا جگر کی خرابی میں قابض اور نفاخ غذاؤں کا استعمال کرتا ہے تو خواہ یہ چیزیں حلال ہی کیوں نہ ہوں اس وجہ سے کہ وہ اس کے لئے طیب نہیں ہیں ان کا استعمال اسے نقصان پہنچائے گا۔پس اس جگہ طیب کو حلال کے ساتھ لگا کر یہ بتایا ہے کہ صرف حلال کھانا ہی مومن کا کام نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ چیز طیب ہو یعنی گندی اور سڑی ہوئی