صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 322
صحیح البخاری جلد ۱۳ ٧٠ - كتاب الأطعبة بِيَدِي فَأَقَامَنِي وَعَرَفَ الَّذِي ہي ہیں۔آپ نے فرمایا: ابوہریرہ! میں نے کہا: فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَحْلِهِ فَأَمَرَ لِي بِحُسِ رسول اللہ ! حاضر ہوں اور آپ کی خدمت میں مِنْ لَّبَنِ فَشَرِبْتُ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ عُدْ ہوں۔آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھڑا کیا اور فَاضْرِبْ يَا أَبَا هِرٌ فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ جو میری حالت تھی اُسے پہچان لیا۔اور آپ مجھے ثُمَّ قَالَ عُدْ فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ حَتَّى اپنے گھر لے گئے۔آپ نے میرے لئے ایک اسْتَوَى بَطْنِي فَصَارَ كَالْقِدْحِ قَالَ دودھ کا پیالہ لانے کے لئے حکم دیا۔میں نے اُس فَلَقِيْتُ عُمَرَ وَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي كَانَ میں سے پیا۔آپ نے فرمایا: ابو ہریرہ! اور پیو ، میں مِنْ أَمْرِي وَقُلْتُ لَهُ تَوَلَّى ذَلِكَ مَنْ نے پھر پیا۔پھر آپ نے فرمایا: اور پیو، میں نے اور كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ يَا عُمَرُ وَاللهِ لَقَدِ پیا۔یہاں تک کہ میرا پیٹ تن کر تیر کی طرح ہو اسْتَقْرَأْتُكَ الْآيَةَ وَلَأَنَا أَقْرَأُ لَهَا مِنْكَ گیا۔حضرت ابوہریرہ کہتے تھے: پھر میں حضرت قَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَأَنْ أَكُونَ أَدْخَلْتُكَ عمر سے ملا اور جو مجھے واقعہ پیش آیا تھا اُن سے ذکر أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي مِثْلُ کیا اور میں نے اُن سے کہا: عمر! اللہ نے میری بھوک کو دور کرنے کے لئے ایسے شخص کو بھیج دیا حُمْرِ النَّعَمِ۔أطرافه : ٠٦٢٤٦ ٦٤٥٢ - جو آپ سے اس بات کے زیادہ لائق تھا۔اللہ کی قسم! میں نے آپ سے ایک آیت کا مفہوم پوچھا حالانکہ میں آپ سے بڑھ کر اُس کو جانتا تھا۔حضرت عمر نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر میں تم کو گھر میں لے جاتا تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہوتا کہ میرے لئے سرخ اونٹ ہوں۔كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُم : اُن پاکیزہ چیزوں کو کھایا کرو جو ہم نے تم کو دیں۔حضرت شرح معلم الموعود رضی اللہ عنہ عیب کی ال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں؟ طيبا: طاب سے صفت مشبہ ہے۔اور طیب کے معنے ہیں: انحلال۔حلال۔اور جب