صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 314
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۱۴ ۶۹ - كتاب النفقات بَاب ١٤ : وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ (البقرة: ٢٣٤) إِلَى قَوْلِهِ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ وارث پر بھی ایسا ہی حق ہے (النحل: ۷۷) وَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْهُ شَيْءٌ وَ اور کیا عورت پر بھی کچھ ایسا ہی لازم ہے۔(اور ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ اَحَدُهُمَا اَبكَم الله تعالیٰ نے فرمایا:) اور اللہ دو اور شخصوں کی حالت ( بھی ) بیان کرتا ہے جن میں سے ایک (تو) گونگا ہو جو کسی بات کی طاقت نہ رکھتا ہو اور وہ اپنے مالک پر بے فائدہ بوجھ ہو جدھر بھی (اس کا آقا) اُسے بھیجے (وہ) کوئی بھلائی (کما کر) نہ لائے (پس) کیا وہ (شخص) اور وہ (دوسرا) شخص جو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہو اور وہ (خود بھی) سیدھی راہ پر ( قائم ) ہو باہم برابر ہو سکتے ہیں ؟ ٥٣٦٩ : حَدَّثَنَا مُوْسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۵۳۶۹: موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ وہیب حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيْهِ بن خالد ) نے ہم سے بیان کیا۔ہشام بن عروہ) عَنْ زَيْنَبَ إِبْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان أُمِّ سَلَمَةَ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ هَلْ لِي کے باپ نے حضرت زینب بنت ابی سلمہ سے، مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أَنْ أُنْفِقَ حضرت زینب نے حضرت ام سلمہ سے روایت عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا کی۔وہ کہتی تھیں:) میں نے پوچھا: یارسول اللہ ! وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ۔قَالَ نَعَمْ لَكِ کیا مجھے ابو سلمہ کے بیٹوں کی وجہ سے کچھ ثواب أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ۔ملے گا؟ اگر میں اُن پر کچھ خرچ کروں۔اور میں اُن کو یوں ہی تو چھوڑنے کی نہیں، وہ بھی میرے بیٹے ہیں۔آپ نے فرمایا: ہاں تمہیں اس کا ثواب ملے گا جو تم اُن پر خرچ کرو۔طرفة: ١٤٦٧ -