صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 313
صحیح البخاری جلد ۱۳ ٣١٣ ۶۹ - كتاب النفقات أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلٌ فَقَالَ هَلَكْتُ قَالَ وَلِمَ قَالَ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں ہلاک ہو وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ قَالَ گیا۔آپ نے فرمایا: کیوں؟ اس نے کہا: رمضان فَأَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ لَيْسَ عِنْدِي قَالَ میں بیوی سے مباشرت کر بیٹھا۔آپ نے فرمایا: فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا پھر ایک گردن آزاد کر دو۔اس نے کہا: میرے أَسْتَطِيْعُ قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِيْنًا پاس نہیں ہے۔آپ نے فرمایا: لگاتار دو مہینے کے قَالَ لَا أَجِدُ۔فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ روزے رکھو۔اُس نے کہا: میں نہیں رکھ سکتا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيْهِ تَمْرٌ فَقَالَ أَيْنَ آپ نے فرمایا: تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔السَّائِلُ قَالَ هَا أَنَا ذَا قَالَ تَصَدَّقُ اُس نے کہا: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔بِهَذَا قَالَ عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا يَا رَسُوْلَ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلا اللهِ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لایا گیا جس میں کچھ کھجوریں تھیں۔آپ نے فرمایا: لَا بَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتِ أَحْوَجُ مِنَّا وہ پوچھنے والا کہاں ہے ؟ وہ کہنے لگا: یہ میں ہوں۔فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ نے فرمایا: یہ صدقہ میں دے دو۔اس نے حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ قَالَ فَأَنْتُمْ إِذَا۔پوچھا: یا رسول اللہ ! کیا اُسے جو ہم سے زیادہ محتاج ہو ؟ اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے (مدینہ کے) دو پتھریلے میدانوں میں کوئی گھر والے ایسے نہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہوں۔یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہے کہ آپ کے دانت ظاہر ہوئے۔آپ نے فرمایا: تب تو تم ہی زیادہ ستحق ہو۔أطرافه: ۱۹۳۶ ، ۱۹۳۷ ، ۲۶۰۰، ٦۰۸۷، ٦١٦٤، ۶۷۰۹، ٦۷۱۰، ٦٧١١، ٦٨٢١-