صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 306
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۰۶ ۶۹ - كتاب النفقات أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا روکے۔اس کو دکھ دینے کے لئے دوسری کو مقرر وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا بَعْدَ أَنْ کرے۔ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ ماں باپ يكُونَ ذَلِكَ عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا دونوں اپنی خوشی سے کسی دوسرے سے دودھ وَتَشَاوُرٍ۔فصله (الأحقاف:١٦) پلوائیں ، جب وہ باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑوانا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں جبکہ فِطَامُهُ۔انہوں نے یہ اپنی رضامندی اور مشورہ سے کیا ہے۔فضلہ کے معنی ہیں بچے کا دودھ چھڑانا۔باب ٦ : عَمَلُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا عورت کا اپنے خاوند کے گھر میں کام کاج کرنا ٥٣٦١: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۵۳۶۱ مدد نے ہم سے بیان کیا کہ يجي (بن يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ سعيد قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنَّ روایت کی۔انہوں نے کہا کہ مجھ سے حکم (بن فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ أَتَتِ النَّبِيَّ عتیبہ نے بیان کیا۔حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُمْ إِلَيْهِ مَا کی۔انہوں نے کہا:) حضرت علی نے ہم سے تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى وَبَلَغَهَا أَنَّهُ بیان کیا کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس تکلیف کا جَاءَهُ رَقِيقٌ فَلَمْ تُصَادِفَهُ فَذَكَرَتْ شکوہ کیا، جو چکی سے اُن کے ہاتھوں کو ہوتی تھی۔ذَلِكَ لِعَائِشَةَ۔فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ اور حضرت فاطمہ کو یہ خبر پہنچی تھی کہ آپ کے عَائِشَةُ۔قَالَ فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا پاس لونڈی غلام آئے ہیں تو حضرت فاطمہ نے مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُوْمُ فَقَالَ عَلَى اتفاق سے آپ کو نہ پایا اور انہوں نے حضرت مَكَانِكُمَا فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عائشہؓ سے اس کا ذکر کیا۔جب آپ آئے تو حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى بَطْنِي حضرت عائشہ نے آپ کو بتایا۔حضرت علی کہتے فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا تھے: اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے