صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 305
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۰۵ ۶۹ - كتاب النفقات (الأحقاف: ١٦) وَقَالَ وَإِنْ تَعَاسَرْتُم میں مہینوں میں ہوتا ہے۔اور فرمایا: اور اگر تم فَسَتُرْضِعُ لَةَ أَخْرى لِيُنْفِقُ ذُو سَعَةٍ تکلیف میں ہو تو پھر اس کو دوسری عورت دودھ مِنْ سَعَتِهِ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ إِلَى پلائے گی۔چاہیے کہ کشائش والا اپنی وسعت قَوْلِهِ بَعْدَ عُسْرِ يُسْرًان کے مطابق خرچ کرے اور جو مالدار نہیں ہے وہ (الطلاق: ۷، ۸ اللہ کے دیئے کے مطابق خرچ کرے۔اللہ کسی نفس کو ایسے ہی احکام نہیں دیتا جو اُس کی طاقت سے بڑھ کر ہوں بلکہ ایسے ہی احکام دیتا ہے جن کے پورا کرنے کی توفیق بھی اُن کو بخشی ہو۔چنانچہ اگر کوئی شخص خدا کے حکم پر عمل کرتے ہوئے دودھ پلانے والی عورت کی مزدوری صحیح طور پر دے گا تو اگر وہ تنگی کی حالت میں بھی ہے تو اللہ اس کے بعد اس کے لیے فراخی کی حالت پیدا کر دے گا۔وَقَالَ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ نَهَى اللَّهُ اور یونس نے زہری سے نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تَعَالَى أَنْ تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَذَلِكَ منع کیا ہے کہ والدہ کو اس کے بچے کی وجہ سے أَنْ تَقُوْلَ الْوَالِدَةُ لَسْتُ مُرْضِعَتَهُ تکلیف دی جائے اور اس سے یہ مراد ہے کہ والدہ وَهِيَ أَمْثَلُ لَهُ غِدَاءً وَأَشْفَقَ عَلَيْهِ کہے کہ میں اس کو دودھ نہیں پلاؤں گی حالانکہ ماں وَأَرْفَقُ بِهِ مِنْ غَيْرِهَا فَلَيْسَ لَهَا أَنْ کا دودھ اس کے لئے بہتر غذا ہے اور ماں دوسرے تَأْبَى بَعْدَ أَنْ يُعْطِيَهَا مِنْ نَفْسِهِ مَا کی نسبت اس پر زیادہ شفقت کرنے والی اور اس جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَيْسَ لِلْمَوْلُودِ لَهُ أَنْ سے زیادہ محبت رکھنے والی ہے تو اس کو نہیں چاہیے کہ وہ اس کے بعد انکار کرے جبکہ وہ شخص اپنی يُضَارَّ بِوَلَدِهِ وَالِدَتَهُ فَيَمْنَعَهَا أَنْ طرف سے اُس کو وہ حق دیتا ہے جو اللہ نے اس پر تُرْضِعَهُ ضِرَارًا لَهَا إِلَى غَيْرِهَا فَلَا مقرر کیا۔اور جس کا وہ بچہ ہے اس کو بھی نہیں جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَسْتَرْضِعَا عَنْ چاہیے کہ اپنے بچے کی وجہ سے اس کی والدہ کو طِيبِ نَفْسِ الْوَالِدِ وَالْوَالِدَةِ۔فَإِنْ تکلیف دے یعنی اس کے بچے کو دودھ پلانے سے