صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 297 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 297

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۹۷ ۶۹ - كتاب النفقات ہے کہ اس کو نظرانداز کر کے اسے خدا کی راہ میں ایسا صدقہ کرنے سے روکا گیا ہے جو ورثاء کے لیے جنگی اور غربت کا باعث بنے۔گویا نیکی یا مذہب کے نام پر زیر کفالت کو حق سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، اس لیے یہ فیصلہ دیا گیا کہ اسلام کی راہ میں مالی قربانی ایک تہائی سے زیادہ کرنے کی اجازت نہیں ہے ، اگر زیر کفالت افراد پر اس کا منفی اثر پڑتا ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دو مرد عورت کی زندگی کے تمام اقسام آسائش کا متکفل ہو جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ (البقرة: ۲۳۴) یعنی یہ بات مردوں کے ذمہ ہے کہ جو عورتوں کو کھانے کے لئے ضرورتیں ہوں یا پہننے کے لئے ضرورتیں ہوں وہ سب اُن کے لئے مہیا کریں۔اس سے ظاہر ہے کہ مرد عورت کا مربی اور محسن اور ذمہ وار آسائش کا ٹھہرایا گیا ہے اور وہ عورت کے لئے بطور آقا اور خداوند نعمت کے ہے۔۔۔۔مردوں کے لئے قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُونِ (النساء: (۲۰) یعنی تم اپنی عورتوں سے ایسے حسن سلوک سے معاشرت کرو کہ ہر ایک عظمند معلوم کر سکے کہ تم اپنی بیوی سے احسان اور مروت سے پیش آتے ہو۔“ (چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۸۸) بَاب حَبْسُ الرَّجُلِ قُوْتَ سَنَةٍ عَلَى أَهْلِهِ وَكَيْفَ نَفَقَاتُ الْعِيَالِ آدمی کا اپنے بیوی بچوں کے لئے ایک سال کا خرچ رکھ لینا اور بال بچوں کے اخراجات کیسے ہوں حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ۵۳۵۷: محمد بن سلام (بیکندی) نے مجھ سے بیان أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (سفیان) قَالَ لِي مَعْمَرٌ قَالَ لِي الثَّوْرِيُّ هَلْ بن عیینہ سے۔ابن عیینہ نے کہا کہ مجھ سے معمر سَمِعْتَ فِي الرَّجُلِ يَجْمَعُ لِأَهْلِهِ نے روایت کی۔معمر کہتے ہیں: (سفیان ثوری نے قُوْتَ سَنَتِهِمْ أَوْ بَعْضِ السَّنَةِ قَالَ مجھ سے پوچھا: کیا تم نے ایسے شخص کے متعلق کچھ مَعْمَرٌ فَلَمْ يَحْضُرْنِي۔ثُمَّ ذَكَرْتُ سنا ہے کہ جو اپنے بیوی بچوں کے لئے ان کے حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ شِهَابِ الزُّهْرِيُّ ایک سال کا یا ایک سال سے کم کا خرچ جمع رکھتا عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ ہے؟ معمر نے کہا: مجھے کوئی حدیث یاد نہیں۔پھر