صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 287 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 287

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۸۷ ۶۸ - کتاب الطلاق کرتی ہو اس کام کو کوئی دانا شخص بُرا قرار نہیں دے سکتا۔درحقیقت یہ آیت ان لوگوں کے لئے زجر ہے جو بیوہ عورتوں کو نکاح ثانی سے روکتے ہیں۔فرماتا ہے: اگر وہ نکاح کر لیں تو کیا تم پر کوئی گناہ ہے۔یعنی ہر گز کوئی گناہ نہیں۔پھر تم انہیں نکاح سے کیوں روکتے ہو۔وہ اپنے نفوس کے متعلق جو کچھ فیصلہ کریں اس کا وہ حق رکھتی ہیں۔ہاں اس میں یہ اشارہ ضرور پایا جاتا ہے کہ اگر وہ کوئی غیر معروف کام کریں اور حکام و اولیاء انہیں نہ روکیں تو یہ گناہ ہو گا۔بیوہ کے لئے چار ماہ دس دن کی مدت مقرر کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اگر عورت حاملہ ہو تو اس عرصہ میں جنین میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور اسے حمل کا یقینی طور پر علم ہو جاتا ہے۔جس کے نتیجہ میں ضروری ہوتا ہے کہ وہ نکاح کے لئے وضع حمل تک انتظار کرے۔“ ( تفسير كبير ، سورة البقرة زير آيت وَالَّذِينَ يُتَوَفُونَ مِنكُم۔۔۔جلد ۲ صفحه ۵۳۰،۵۲۹) باب ٥١: مَهْرُ الْبَغِيِّ وَالنِّكَاحُ الْفَاسِدُ رنڈی کا مہر اور نکاح فاسد وَقَالَ الْحَسَنُ إِذَا تَزَوَّجَ مُحَرَّمَةً وَهُوَ حسن (بصری) نے کہا: اگر کسی نے اُس عورت لَا يَشْعُرُ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَلَهَا مَا سے نکاح کر لیا جس سے نکاح کرنا حرام ہے اور أَخَذَتْ وَلَيْسَ لَهَا غَيْرُهُ ثُمَّ قَالَ اسے علم نہیں تو اُن کو علیحدہ کر دیا جائے اور جو اُس بَعْدُ لَهَا صَدَاقُهَا۔(عورت) نے (مال) لیا اُس کا ہو گا اور اس کے سوا اس کو کچھ نہیں ملے گا۔پھر اس کے بعد انہوں نے یہ فتویٰ دیا اُس کو اُس کا مہر دیا جائے گا۔٥٣٤٦ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۵۳۴۶: علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِي عَنْ أَبِي کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي مَسْعُوْدٍ نے زہری سے، زہری نے ابو بکر بن عبد الرحمن اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّی سے ، ابو بکر نے حضرت ابومسعود (انصاری) اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی رَضِيَ