صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 286
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۸۶ ۶۸ - کتاب الطلاق أُمِّ حَبِيْبَةَ إِبْنَةِ أَبِي سُفْيَانَ لَمَّا جَاءَهَا امّ سلمہ سے، حضرت زینب نے حضرت ام حبیبہ نَعِيُّ أَبِيْهَا دَعَتْ بِطِيْبِ فَمَسَحَتْ بنت ابی سفیان سے روایت کی کہ جب اُن کو اُن ذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ مَا لِي بِالطَّيِّبِ مِنْ کے باپ کی موت کی خبر ملی تو انہوں نے خوشبو حَاجَةٍ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى منگائی اور اپنے بازؤں پر ہاتھ پھیر کر لگائی اور کہنے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ لگیں: مجھے تو خوشبو کی ضرورت نہ تھی اگر میں تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہ سنا ہو تا کہ مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ إِلَّا عَلَى زَوْجِ کسی عورت کے لئے بھی کہ جو اللہ اور یوم آخرت أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا۔أطرافه: ۱۲۸۰ ، ۱۲۸۱، ٥٣٣٤ ٥٣٣٩۔ریح پر ایمان لاتی ہو جائز نہیں کہ وہ میت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر چار مہینے اور دس دن سوگ کرے۔وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا: اور تم میں سے جن (لوگوں) کی روح قبض کرلی جاتی ہے اور وہ (اپنے پیچھے) بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر چار ماہ دس دن کی عدت گذرنے کے بعد عورتیں اپنے مستقبل کے متعلق کوئی قدم اٹھائیں۔تو مر دوں پر تو کوئی گناہ نہ ہو گا لیکن عورتوں پر گناہ ہو گا کیونکہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْر اخراج (البقرۃ: ۲۴۱) یعنی عورتوں کو اپنے گھروں سے ایک سال تک کوئی شخص نکالنے کا مجاز نہیں۔لیکن میرے نزدیک یہ بات درست نہیں کہ ایسی صورت میں عورتوں پر گناہ ہے کیونکہ اسی آیت میں اس کے بعد بِالْمَعْرُوفِ کا لفظ آیا ہے جس سے صاف ثابت ہے کہ اگر وہ نکاح ثانی کر لیں تو یہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ ایک پسندیدہ اور قابل ستائش فعل ہے۔اگر گناہ ہوتا تو بِالْمَعْرُوفِ کے الفاظ استعمال نہ کئے جاتے۔کیونکہ معروف کے معنے رائج الوقت قانون یا فطرتی جذبہ یا عقل عامہ کے مطابق کسی کام کے کرنے کے ہوتے ہیں۔اور جو کام قانون کے مطابق ہو یا فطرتی جذبہ کے مطابق ہو یا انسانی عقل اس کا تقاضا