صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 284
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۸۴ ۶۸ - کتاب الطلاق باب ٥٠ : وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا إِلَى قَوْلِهِ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (البقرة: ٢٣٥) اور تم میں سے جن (لوگوں) کی روح قبض کرلی جاتی ہے اور وہ (اپنے پیچھے ) بیویاں چھوڑ جاتے ہیں ( چاہیے کہ ) وہ (بیویاں) اپنے آپ کو چار مہینے (اور ) دس (دن) تک روک رکھیں پھر جب وہ اپنا مقررہ وقت پورا کرلیں وہ اپنے متعلق مناسب طور پر جو کچھ (بھی) کریں اُس کا تم پر کوئی گناہ نہیں اور جو تم کرتے ہو اللہ اس سے واقف ہے ٥٣٤٤ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ۵۳۴۲: اسحاق بن منصور نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شِبْل روح بن عبادہ نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيْحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ وَ خیل سے ، شبل نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے الَّذِينَ يُتَوَقَوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ مجاہد سے روایت کی۔وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ اَزْوَاجًا (البقرة: ٢٣٥) قَالَ كَانَتْ يَذَرُونَ أَزْوَاجًا جو آیت ہے ، انہوں نے کہا: یہ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وہ عدت تھی جو عورت اپنے خاوند کے گھر والوں وَاجِبًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ کے پاس ضروری طور پر گزارا کرتی تھی اس لئے مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً اللہ نے یہ حکم نازل کیا : تم میں سے جو فوت ہوں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنی بیویوں کے لئے لازْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک انہیں فائدہ اخراج فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي اٹھانے دینا ہو گا بغیر اس کے کہ نکالی جائیں۔اگر مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوفٍ وه خود نکلیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔اس بھلے کام (البقرة: ٢٤١) قَالَ جَعَلَ اللهُ لَهَا کی وجہ سے جو انہوں نے اپنے لئے خود بخود کیا تَمَامَ السَّنَةَ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِيْنَ ہے۔مجاہد نے کہا: اس آیت میں اللہ تعالٰی نے لَيْلَةً وَصِيَّةً إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي سات مہینے اور ہیں راتیں بڑھا کر سال پورا کر دیا۔وَصِيَّتِهَا وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ وَهُوَ یہ ایسی وصیت ہے کہ اگر وہ چاہے تو اس وصیت قَوْلُ اللهِ تَعَالَى غَيْرَ اِخْرَاجِ فَإِن کے مطابق گھر میں رہے اور اگر چاہے تو نکل