صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 285
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۸۵ ۶۸ کتاب الطلاق خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فَالْعِدَّةُ كَمَا جائے۔اور یہی مراد ہے اللہ کے اس قول سے هِيَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا زَعَمَ ذَلِكَ عَنْ ”بغیر اس کے کہ نکالی جائیں۔اگر وہ خود نکلیں تو مُّجَاهِدٍ۔وَقَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ تم پر کوئی گناہ نہیں۔مگر عدت جیسی کہ وہ ہے نَسَحَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ اس پر ضروری ہے۔( ابن ابی نجیح نے) مجاہد سے أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَقَوْلُ روایت کرتے ہوئے یہ کہا۔اور عطاء بن ابی رباح) اللهِ تَعَالَى غَيْرَ اِخْرَاجِ وَقَالَ عَطَاء نے کہا کہ حضرت ابن عباس کہتے تھے کہ اس آیت نے عورت کی اس عدت کو جو وہ اپنے گھر إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهَا والوں کے پاس گزارتی تھی منسوخ کر دیا۔اب وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا وَإِنْ شَاءَتْ جہاں چاہے عدت گزارے۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِى قول غير اخراج جو ہے ، عطاء نے کہا: اگر چاہے مَا فَعَلْنَ فِي انْفُسِهِنَّ (البقرة: ٢٤١) تو اپنے گھر والوں کے پاس عدت گزارے اور قَالَ عَطَاءٌ ثُمَّ جَاءَ الْمِيْرَاثُ فَنَسَخَ اپنی وصیت کے مطابق رہے اور اگر چاہے نکل السُّكْنَى فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَلَا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم پر کوئی گناہ نہیں اس امر میں جو انہوں نے کیا۔عطاء نے کہا: اس کے بعد میراث کا حکم آیا اور اس نے اس رہائش کو بھی منسوخ کر دیا تو اب جہاں چاہے عدت گزارے اور اس کے لئے (اپنے خاوند کے سُكْنَى لَهَا۔طرفه ٤٥٣١ - گھر ) رہنا ضروری نہیں۔٥٣٤٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۵۳۴۵: محمد بن کثیر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن أَبِي بَكْرِ سفیان ثوری) سے، سفیان نے عبد اللہ بن ابی بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ بكر بن عمرو بن حزم سے روایت کی کہ حمید بن نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ إِبْنَةِ أُمّ سَلَمَةَ عَنْ نافع نے مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت زینب بنت