صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 266 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 266

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۶۶ ۶۸ - كتاب الطلاق کے یہ معنی ہیں کہ جناب الہی سے مردود ہو جاوے اور قبولیت سے محروم رہے۔ اور مخلوق کی نظر سے بھی گر جاوے اور عزت اور وجاہت بھی جاتی رہے۔ غرض خدا کے نزدیک لعنت کا لفظ تمام نامر ادیوں اور مردود اور مخذول ہونے کے معنوں پر محیط ہے اور ہر ایک نوع کی برکت سے محروم اور مخذول اور مردود رہنا اس کے لوازم میں سے ہے اور جس شخص پر خدا کی لعنت وارد ہو جائے اُس کا ثمرہ ہلاکت اور تباہی ہے۔“ (تتمہ حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۵۲) بَاب ۳۷ : إِذَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ تَزَوَّجَتْ بَعْدَ الْعِدَّةِ زَوْجًا غَيْرَهُ فَلَمْ يَمَسَّهَا اگر کوئی اپنی عورت کو تین طلاقیں دے پھر وہ عدت کے بعد کسی اور خاوند سے شادی کرے لیکن وہ شخص اس عورت کو چھوئے نہیں ٥٣١٧ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۵۳۱۷: عمرو بن علی (فلاس) نے مجھ سے بیان حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ کیا کہ يحي بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ ہشام حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ بن عروہ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عائشہ سے، حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا (نیز) عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ عبده بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ هشام سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ثُمَّ طَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَتْ آخَرَ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رفاعہ قرظی نے ایک عورت سے نکاح کیا اور پھر فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّهُ لَا يَأْتِيْهَا وَأَنَّهُ لَيْسَ کچھ مدت بعد) اس نے اس عورت کو طلاق