صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 243
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۴۳ ۶۸ کتاب الطلاق النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَنْ كعب بن مالک نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خُذِ النِّصْفَ وَقَالَتْ أَسْمَاءُ صَلَّى مجھے اشارہ فرمایا یعنی آدھا لے لو۔اور حضرت اسماء النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کہتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن الْكُسُوْفِ فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا شَأْنُ لگنے کے وقت نماز پڑھی۔میں نے عائشہ سے النَّاسِ فَأَوْمَاتْ بِرَأْسِهَا إِلَى الشَّمْسِ پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا ہے۔انہوں نے اپنے سر فَقُلْتُ آيَةً فَأَوْمَاتْ بِرَأْسِهَا وَهِيَ سے سورج کی طرف اشارہ کیا۔میں نے کہا: کوئی تُصَلِّي أَيْ نَعَمْ۔وَقَالَ أَنَسٌ أَوْمَاً نشان ہے ؟ وہ بھی نماز پڑھ رہی تھیں ،انہوں نے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى اپنے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔اور حضرت انس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے أَوْمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابو بکر" کو اشارہ کیا کہ آگے بڑھیں۔اور أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُتَقَدَّمَ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِيَدِهِ لَا حَرَجَ وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ حضرت ابن عباس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کچھ حرج نہیں۔اور ابو قتادہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شکار الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ آحَدٌ مِنْكُمْ أَمَرَهُ أَنْ کے متعلق اُن (صحابہ) سے جو احرام باندھے يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا قَالُوْا لَا قَالَ فَكُلُوا۔ہوئے تھے، فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے اس کو حکم دیا کہ اس پر حملہ کرے یا اُس (شکار) کی طرف اشارہ کیا؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپؐ نے فرمایا: تو تم کھالو۔٥٢٩٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۵۲۹۳: عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے ہمیں بتایا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ که ابو عامر عبد الملک بن عمرو نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ که ابراهیم بن طہمان) نے ہمیں بتایا۔انہوں عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَافَ نے خالد (حذاء) سے، خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔انہوں عَمْرٍو