صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 234
صحیح البخاری جلد ۱۳ يوم سلام سلام ۶۸ - کتاب الطلاق عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے قَوْلِهِنَّ قَالَ لَهُنَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله فرماتے: تم چلی جاؤ۔میں نے تم سے بیعت لے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ لَا لى - اللہ کی قسم! ہر گز نہیں، رسول اللہ صلی اللہ وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ غَيْرَ أَنَّهُ نہیں چھوا لیکن آپ زبانی الفاظ سے ہی بیعت بَايَعَهُنَّ بِالْكَلَامِ وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ لیتے تھے۔اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف انہی باتوں کا عہد لیا جن کے متعلق اللہ نے آپ کو حکم دیا۔جب آپ اُن سے اقرار لے لیتے تو آپ اُن سے زبانی الفاظ میں یوں فرماتے : میں نے تم سے بیعت لے لی۔اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ يَقُوْلُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ قَدْ بَايَعْتُكُنَّ كَلَامًا۔أطرافه ۲۷۱۳، ۲۷۳۳، ٤۱۸۲، ٤٨٩١، ٧٢١٤۔تشریح: وَلا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَتِ حَتَّى يُؤْمِنَ : مشرک عورتوں سے جب تک وہ مؤمن نہ ہوں نکاح نہ کرنا۔ابواب ۱۸ تا ۲۰ میں ایک مسلمان کے مشرک عورت سے نکاح کرنے اور ان کے حقوق کے متعلق بیان کیا گیا ہے۔اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: مسلمان اور کافر کے باہمی نکاح کے بارے میں قرآنی احکام تین مختلف موقعوں پر درجہ بدرجہ نازل ہوئے ہیں۔سب سے پہلے ہجرت کے کچھ عرصہ بعد سورۃ بقرہ کی آیات نازل ہوئیں جن میں یہ حکم دیا گیا کہ کوئی مسلمان کسی مشرک عورت کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا اور نہ کسی مسلمان عورت کا نکاح کسی مشرک مرد کے ساتھ ہو سکتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے لا تنكِحُوا الْمُشْرِكَتِ حَتَّى يُؤْمِنَ وَ لَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا (البقرة: ۲۲۲) یعنی ”اے مسلمانو ! تم مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح نہ کیا کرو یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائیں اور نہ ہی تم مسلمان عورتوں کا نکاح مشرک مردوں کے ساتھ کیا کر و حتی کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔“ لیکن اس حکم میں یہ تصریح نہیں تھی کہ اگر نکاح پہلے سے ہو چکا ہو تو پھر کیا کیا جائے۔سواس کے متعلق صلح حدیبیہ کے بعد سورۃ ممتحنہ والی آیات نازل ہوئیں جن میں یہ حکم دیا گیا کہ ایک مسلمان عورت کا کسی صورت میں بھی ایک مشرک مرد کے ساتھ نکاح قائم نہیں رہ سکتا