صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 235
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۳۵ ۶۸ - کتاب الطلاق اور نہ کسی مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ کسی مشرک عورت کو اپنے نکاح میں رکھے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَتُ مُهْجِرَاتٍ۔۔۔فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ ، لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ۔۔۔وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الكوافر (الممتحنة: (۱۱) یعنی ”اے مسلمانو! اگر تمہارے پاس مومن عورتوں میں سے بعض عورتیں ہجرت کر کے پہنچیں تو تم انہیں کافروں کی طرف نہ لوٹاؤ کیونکہ مسلمان ہونے کے بعد وہ کافروں کے لئے جائز نہیں رہیں۔اور نہ کافر مرد مسلمان عورتوں کے لئے جائز ہیں۔اور اگر اے مسلمانو! تمہارے نکاح میں کوئی کافر (مشرک) عورت ہو تو تم اس کے عقد نکاح کو بھی قائم نہیں رکھ سکتے۔“ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں سورۃ مائدہ والی آیات نازل ہوئیں۔جن میں اس بات کی صراحت کی گئی کہ ایک اہل کتاب عورت (یعنی یہودی یا عیسائی وغیرہ) کے ساتھ مسلمان مرد کا نکاح ہو سکتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے: الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَتُ۔۔۔وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الْمُؤْمِنَتِ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الكتب مِنْ قَبْلِكُمْ (المائدة: 1 ) یعنی اے مسلمانو ! آج کے دن تمہارے لئے تمام پاکیزہ چیزیں حلال قرار دی گئی ہیں۔اور اسی طرح ان پاک دامن عورتوں کے ساتھ بھی تمہارا نکاح جائز ہے جو ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں تم سے پہلے کوئی شریعت کی کتاب دی گئی۔“ اس آخری حکم کے ذریعہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کے درمیان نمایاں امتیاز قائم کر دیا گیا۔یعنی جہاں ایک مسلمان مرد کے لئے غیر مسلم اہل کتاب عورت کا نکاح جائز قرار دیا گیا وہاں ایک ایسی مشرک عورت کا نکاح جو کسی الہامی کتاب کو نہیں مانتی ہر حال میں ناجائز رکھا گیا۔۔۔اس ضمن میں اس حکمت کا بیان کرنا بھی مناسب ہو گا کہ اسلام میں غیر مسلم مرد کے نکاح میں مسلمان لڑکی کا دینا یا مسلمان مرد کے نکاح میں غیر اہل کتاب کی لڑکی لینا کیوں حرام قرار دیا گیا۔سو جاننا چاہئے کہ مقدم الذکر صورت یعنی غیر مسلم مرد کے ساتھ نکاح نہ کرنے کی وجہ تو ظاہر ہے کہ ایک مسلمان لڑکی کو غیر مسلم مرد کی شادی میں دینے کے یہ معنی ہیں کہ لڑکی کے دین کو خود اپنے ہاتھ سے خطرہ میں ڈالا جاوے اور اسلام کو ترقی دینے