صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 224
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۲۴ ۶۸ - كتاب الطلاق نیز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اے عور تو فکر نہ کرو جو تمہیں کتاب ملی ہے وہ انجیل کی طرح انسانی تصرف کی محتاج نہیں اور اُس کتاب میں جیسے مردوں کے حقوق محفوظ ہیں عورتوں کے حقوق بھی محفوظ ہیں اگر عورت مرد کے تعدد ازواج پر ناراض ہے تو وہ بذریعہ حاکم خلع کر اسکتی ہے۔ خدا کا یہ فرض تھا کہ مختلف صورتیں جو مسلمانوں میں پیش آنے والی تھیں اپنی شریعت میں ان کا ذکر کر دیتا تا شریعت ناقص نہ رہتی سو تم اسے عور تو اپنے خاوندوں کے ان ارادوں کے وقت کہ وہ دوسرا نکاح کرنا چاہتے ہیں خدا تعالیٰ کی شکایت مت کرو بلکہ تم دعا کرو کہ خدا تمہیں مصیبت اور ابتلا سے محفوظ رکھے بیشک وہ مرد سخت ظالم اور قابل مواخذہ ہے جو دو جو روئیں کر کے انصاف نہیں کرتا مگر تم خود خدا کی نافرمانی کر کے مورد قہر الہی مت بنو ہر ایک اپنے کام سے پوچھا جائے گا۔ اگر تم خدا تعالیٰ کی نظر میں نیک بنو تو تمہارا خاوند بھی نیک کیا جاوے گا اگر چہ شریعت نے مختلف مصالح کی وجہ سے تعدد ازواج کو جائز قرار دیا ہے لیکن قضا و قدر کا قانون تمہارے لئے کھلا ہے اگر شریعت کا قانون تمہارے لئے قابل برداشت نہیں تو بذریعہ دعا قضا و قدر کے قانون سے فائدہ اُٹھاؤ کیونکہ قضا و قدر کا قانون شریعت کے قانون پر بھی غالب آجاتا ہے تقویٰ اختیار کرو دنیا سے اور اُس کی زینت سے بہت دل مت لگاؤ۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۸۱) باب ١٤: لَا يَكُوْنُ بَيْعُ الْأَمَةِ طَلَاقًا لونڈی کو فروخت کرنے سے طلاق نہیں ہوتی ٥٢٧٩: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ ۵۲۷۹: اسماعیل بن عبد اللہ (اویسی) نے ہم سے عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ رَبِيعَةَ بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبد الرحمن سے، ربیعہ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نے قاسم بن محمد سے ، قاسم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيْرَةَ ثَلَاثُ سُنَنِ کی۔ وہ کہتی تھیں: بریرہ میں تین نمونے ہیں: