صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 223 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 223

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۸ کتاب الطلاق بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ إِلَى (یعنی میاں بیوی) کے آپس کے تعلقات) میں قَوْلِهِ خَبِيرًا(النساء: ٣٦) تفرقہ کا خوف ہو تو ایک پہنچ اُس (یعنی مرد) کے رشتہ داروں سے اور ایک پہنچ اُس (یعنی عورت) کے رشتہ داروں سے مقرر کرو (پھر) اگر وہ دونوں پہنچ) صلح کرانا چاہیں تو اللہ اُن دونوں میاں بیوی) کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا۔اللہ یقیناً بہت جاننے والا (اور) خبر دار ہے۔٥٢٧٨: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۵۲۷۸ ابو الولید (ہشام بن عبد الملک) نے ہمیں اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ بتایا کہ لیث بن سعد ) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں الْمِسْوَرِ بْنِ مَحْرَمَةَ الزُّهْرِيِّ قَالَ نے ابن ابی ملیکہ سے، ابن ابی ملیکہ نے میسور بن سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخرمہ زُہری سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: میں يَقُوْلُ إِنَّ بَنِي الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوْا فِي نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے أَنْ يُنْكِحَ عَلِيُّ ابْنَتَهُمْ فَلَا آذَنُ۔تھے کہ بنی مغیرہ نے مجھ سے اجازت لی کہ حضرت علی اُن کی بیٹی سے نکاح کر لیں مگر میں اجازت نہیں دیتا۔أطرافه: ٩٢٦، ۳۱۱۰، ۳۷۱۴، ۳۷۲۹، ۳۷۶۷، ۵۲۳۰- :ریح الْخُلْعُ وَكَيْفَ الطَّلَاقُ فِيهِ : خلع اور اس میں طلاق کیونکر ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مجبوریوں کے وقت عورتوں کے لئے بھی راہ کھلی ہے کہ اگر مرد بیکار ہو جاوے تو حاکم کے ذریعہ سے خلع کرالیں جو طلاق کے قائم مقام ہے خدا کی شریعت دوا فروش کی دوکان کی مانند ہے پس اگر دوکان ایسی نہیں ہے جس میں سے ہر ایک بیماری کی دوامل سکتی ہے تو وہ دوکان چل نہیں سکتی پس غور کرو کہ کیا یہ سچ نہیں کہ بعض مشکلات مردوں کے لئے ایسی پیش آجاتی ہیں جن میں وہ نکاح ثانی کے لئے مضطر ہوتے ہیں۔وہ شریعت کس کام کی جس میں کل مشکلات کا علاج نہ ہو۔“ ( کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۸۰)