صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 225 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 225

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۲۵ ۶۸ - كتاب الطلاق إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ ایک نمونہ تو یہ کہ وہ آزاد کی گئی اور اُسے اپنے خاوند فِي زَوْجِهَا وَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى کے متعلق اختیار دیا گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ علیہ وسلم نے فرمایا: اور حق وراثت اُس کا ہے جو وَدَخَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ غلام آزاد کرے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُوْرُ بِلَحْمٍ فَقُرِّبَ اندر آئے اور ہانڈی میں گوشت اہل رہا تھا۔ آپ إِلَيْهِ خُبْرٌ وَأَدْمٌ مِّنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ کے سامنے روٹی اور گھر کے سالن میں سے کچھ رکھا أَلَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ فِيْهَا لَحْمٌ قَالُوْا بَلَى گیا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا میں نے ہانڈی نہ دیکھی تھی وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَی جس میں کچھ گوشت تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں مگر وہ بَرِيْرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ قَالَ ایسا گوشت ہے جو بریرہ کو صدقہ کے طور پر دیا عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ۔ گیا ہے اور آپ صدقہ نہیں کھایا کرتے۔ آپ نے فرمایا: اُس کے لئے صدقہ اور ہمارے لئے ہد یہ ہے۔ أطرافه : ٤٥٦ ، ١٤٩٣، ٢١٥٥ ، ٢١٦٨، ٢٥٣٦، ٢٥٦٠، ٢٥٦١، ٢٥٦٣، ٢٥٦٤، ،٥٢٨٤ ٥٤٣٠ ،۵۰۹۷ ،۲۷۳۵ ،۲۷۲۹ ،۲۷۲۶ ،۲۷۱۷ ،۲۵۷۸ ،٢٥٦٥ -٦٧١٧، ٦٧٥١، ٦٧٥٤ ، ٦٧٥٨ ، ٦٧٦٠ تشريح : لَا يَكُونُ بَيْعُ الْأَمَةِ طَلَاقًا: لونڈی کو فروخت کرنے سے طلاق نہیں ہوتی۔ مذکورہ بالا باب میں بریرہ کے واقعہ سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ لونڈی جب آزاد ہو تو وہ یہ اختیار رکھتی ہے کہ اپنے پہلے نکاح کو قائم رکھے یا اسے ختم کر دے۔ اور اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ اسلام نے نکاح کے لیے عورت کی رضا مندی کو ضروری قرار دیا ہے۔ اور اس کی رضامندی کے ساتھ اس کے ولی کی رضامندی بھی ضروری ہے۔ ان دونوں رضاؤں کے بعد کسی عورت کا نکاح ہو سکتا ہے۔ غلامی کی صورت میں ولی کی رضا مندی کا مسئلہ عملاً ختم ہو جاتا ہے سوائے اس کے کہ اس کے خاندان والے اسے فدیہ دے کر آزاد کرالیں یا وہ عورت مکاتبت کر کے خود آزاد ہو جائے اگر ان دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو اس کا حق ولایت ختم ہو جاتا ہے۔ اور اگر اسے کوئی خرید کر آزاد کر دے تو اس کی آزادی کی صورت میں اب یہ اس کی ذاتی مرضی پر موقوف ہے کہ وہ چاہے تو پہلے خاوند سے کیے گئے رشتہ ازدواج کو قائم رکھے یا اسے ختم کر دے۔