صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 201
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۰۱ ۶۸ - کتاب الطلاق طلاق ایک ایسی چیز ہے جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابغَضُ الْحَلال قرار دیا ہے۔یعنی جائز اور حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ مگر وہ اور نا پسندیدہ چیز۔( تفسیر کبیر ، تفسیر سورة البقرة زیر آیت الطَّلَاقُ مَرن۔۔۔، جلد ۲ صفحه ۵۱۴ تا۵۱۹) بَابه : مَنْ خَيْرَ أَزْوَاجَهُ جس نے اپنی عورتوں کو اختیار دیا وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى قُلْ لِأَزْوَاجِكَ اِن اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اپنی بیویوں سے کہہ اگر وہ كُنتُنَ تُرِدْنَ الْحَياةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا دنیا کی زندگی اور اُس کی زینت چاہتی ہیں تو آؤ فَتَعَالَينَ أمتعكنَ وَ أَسَرَّحُكُنَ سَرَاحًا میں تمہیں کچھ سامان دیئے دیتا ہوں اور تمہیں خوبی جَمِيلًا (الأحزاب: ٢٩) اللهُ عَنْهَا سے چھوڑ دیتا ہوں۔٥٢٦٢ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ۵۲۶۲: عمر بن حفص بن غیاث) نے ہم سے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ حَدَّثَنَا بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش مُسْلِمٌ عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ نے ہم سے بیان کیا کہ مسلم (بن صبیح ابو الضحی) قَالَتْ خَيْرَنَا رَسُوْلُ الله نے ہمیں بتایا۔مسلم نے مسروق سے، مسروق نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَا الله حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہتی وَرَسُوْلَهُ فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا شَيْئًا۔تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو اختیار دیا اور ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا طرفه ٥٢٦٣- اور یہ ہمارے متعلق کوئی طلاق نہیں شمار کی گئی۔٥٢٦٣ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۵۲۶۳ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ يحي (بن يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ سعید قطان نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے اسماعیل عَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ بن ابي خالد ) سے، عامر نے ہم سے بیان کیا۔1 فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں ”نساء “ ہے۔(فتح الباری جزء 9 حاشیہ صفحہ ۴۵۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔