صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 197 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 197

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۹۷ تشريح : من جوز طَلَاقَ الثَّلَاثِ : جس نے تین طلاق کو جائز قرار دیا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۶۸ - كتاب الطلاق الطلاق مرتن سے مراد یہ ہے کہ ایسی طلاق جس میں خاوند کو رجوع کا حق حاصل ہے صرف دو دفعہ ہی ہو سکتی ہے۔ یہ نہیں کہ عورت کو تنگ کرنے کے لئے اسے بار بار طلاق دیتا رہے۔ اور جب عدت ختم ہونے کا وقت قریب آئے تو رجوع کرلے۔ احکام دینیہ کے ساتھ یہ ایک نا پاک تمسخر ہے جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ احادیث میں صراحتا ذ کر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ لا أُطلِقاكِ أَبَدًا وَلَا أُويُكِ أَبَدًا یعنی نہ تو میں تجھے کبھی طلاق دوں گا اور نہ اپنے گھر میں بساؤں گا۔ عورت نے پوچھا: وَكَيْفَ ذَلِكَ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ اس پر اس نے کہا اطلقُ حَتَّى إِذَا آتَى أَجَلُكِ رَاجَعْتُكِ میں تجھے طلاق دوں گا اور جب تیری عدت ختم ہونے کے قریب پہنچے گی تو رجوع کرلوں گا۔ اگلی دفعہ پھر ایسا کروں گا اور پھر رجوع کرلوں گا۔ اس طرح نہ تجھے بساؤں گا اور نہ علیحدہ ہونے دوں گا۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اُس نے اس واقعہ کا آپؐ سے ذکر کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ الطلاق مرتن یعنی وہ طلاق جس میں مرد کو رجوع کا حق حاصل ہے صرف دو دفعہ ہے اس سے زیادہ نہیں۔ (تفسیر ابن کثیر بر حاشیه فتح البیان جلد ۲ صفحہ ۹۴) اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دو طلاقوں تک تو مرد کو رجوع کا حق حاصل رہتا ہے لیکن تیسری طلاق کے بعد اُسے رجوع کا کوئی حق نہیں رہتا۔ اور یہ دو طلاقیں بھی بیک وقت نہیں دی جاسکتیں بلکہ یکے بعد دیگرے دی جاتی ہیں جس کی طرف مومن کا لفظ اشارہ کرتا ہے جس کے معنے مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ کے ہیں۔ یعنی ایک ہی دفعہ طلاقیں نہ دی جائیں بلکہ باری باری دی جائیں اور ہر طلاق کی مدت جیسا کہ اُوپر کی آیت میں گذر چکا ہے تین قروء ہے خواہ وہ ہر مہینے میں ایک طلاق دے یا شروع میں ایک دفعہ دے۔ اس سے طلاق کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فقہاء نے ہر مہینے طلاق دینے کی طرف اس لئے توجہ دلائی ہے کہ اس طرح بار بار انسان کو رجوع کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔ میرے نزدیک خواہ انسان ایک دفعہ طلاق دے یا ہر مہینے