صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 191 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 191

صحیح البخاری جلد ۱۳ 191 ۶۸ کتاب الطلاق وَهِيَ حَائِضٌ۔فَقَالَ تَعْرِفُ ابْنَ عُمَرَ؟ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایسے وقت میں طلاق إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ دے دی ہو جبکہ وہ حائضہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا: حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيُّ صَلَّى الله کیا تم ابن عمرؓ کو جانتے ہو ؟ ابن عمر نے بھی اپنی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ بیوی کو ایسے وقت میں طلاق دے دی تھی جب وہ يُرَاجِعَهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَأَرَادَ أَنْ حائضہ تھی۔اس پر حضرت عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم يُطَلَّقَهَا فَلْيُطَلَّقْهَا قُلْتُ فَهَلْ عَدَّ کے پاس آئے اور آپ سے یہ ذکر کیا تو آپ نے ذَلِكَ طَلَاقًا؟ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ اُن کو حکم دیا کہ وہ اس کو واپس لے لے۔جب وہ حیض سے پاک ہو اور اُس کو طلاق دینا چاہے تو وَاسْتَحْمَقَ۔پھر اُس کو طلاق دے۔(یونس کہتے تھے :) میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا: کیا آپ نے اُس کو طلاق شمار کیا ؟ تو انہوں نے کہا: بھلا بتلاؤ تو سہی کہ تب بھی اگر وہ عاجز ہو اور احمق بنے۔أطرافه : ٤٩٠٨ ۲۰۱ ۲۰۲ ٥۲۰۳، ٥٢٦٤ ٥٣٣٢، 0333، 7160۔يح۔مَنْ طَلَّقَ وَهَلْ يُوَاجِهُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ بِالطَّلَاقِ: جس نے طلاق دی اور کیا آدمی طلاق دے کر اپنی بیوی کے آمنے سامنے ہو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” جب عرب فتح ہوا اور اسلام پھیلنے لگا تو کندہ قبیلہ کی ایک عورت جس کا اسماء یا امیمہ نام تھا اور وہ جو نیہ یا بنت الجون بھی کہلاتی تھی اُس کا بھائی لقمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کی طرف سے بطور وفد حاضر ہوا اور اس موقع پر اُس نے یہ بھی خواہش کی کہ اپنی ہمشیرہ کی شادی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دے اور بالمشافہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست بھی کر دی کہ میری ہمشیرہ جو پہلے ایک رشتہ دار سے بیاہی ہوئی تھی اب بیوہ ہے نہایت خوبصورت اور لائق ہے آپ اس سے شادی کرلیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ قبائل عرب کا اتحاد منظور تھا آپ نے اس کی یہ دعوت منظور کر لی اور فرمایا ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی پر نکاح پڑھ دیا جائے۔اُس نے کہا: یارسول اللہ ! ہم معزز لوگ ہیں مہر تھوڑا ہے۔آپؐ نے فرمایا: اس سے زیادہ میں نے اپنی کسی بیوی یالڑکی