صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 187 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 187

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۸۷ ۶۸ - كتاب الطلاق الطلاق کس طرح آسانی سے یہ جرات کر سکتا ہے کہ اس کی خلاف ورزی کرے۔ جب شریعت کہتی ہے کہ تم اس ابغض الحلال کو اختیار کرنے سے پر ہیز کرو تو ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ ایسے امور میں کمی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ اور اس بات کو میاں بیوی کے تعلقات کی کشیدگی کے وقت بھول نہ جائے۔ ( تفسیر کبیر ، تفسير سورة البقرة زير آيت الطلاق مرتين ۔ جلد دوم صفحه ۵۱۹، ۵۲۰) بَاب ۲ : إِذَا طُلِقَتِ الْحَائِضُ تَعْتَدُّ بِذَلِكَ الطَّلَاقِ اگر حائضہ کو طلاق دی جائے تو کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے ٥٢٥٢ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۵۲۵۲: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيْرِينَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے انس بن سیرین قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ طَلَّقَ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ابن عمرؓ سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت ابن عمرؓ نے عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَم اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی جبکہ وہ حائضہ تھی فَقَالَ لِيُرَاجِعْهَا۔ قُلْتُ تُحْتَسَبُ؟ تو حضرت عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: اس کو واپس کرے۔ (انس بن قَالَ فَمَهُ؟ وَعَنْ قَتَادَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا۔ قُلْتُ تُحْتَسَبُ؟ قَالَ سیرین کہتے تھے کہ) میں نے کہا: کیا وہ شمار ہوگی؟ حضرت ابن عمرؓ نے کہا : چپ رہو۔ اور قتادہ سے مروی ہے کہ انہوں نے یونس بن جبیر سے، یونس أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ۔ نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ اس میں یوں ہے، آپؐ نے فرمایا: اس سے کہو کہ وہ اس کو واپس کرے۔ (یونس بن جبیر کہتے تھے کہ) میں نے کہا: کیا وہ شمار کی جائے گی؟ حضرت ابن عمرؓ نے کہا: بھلا بتاؤ کہ تب بھی کہ جب وہ کسی فرض کو ادا نہ کر سکا ہو اور احمق بنا ہو۔ أطرافه : ٤٩٠٨، ٥٢٥١ ، ٥٢٥٣، ٥٢٥٨، ٥٢٦٤ ، ٥٣٣٢ ، ٥٣٣٣، ٧١٦٠-