صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 186 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 186

صحیح البخاری جلد ۱۳ IAY ۶۸ - کتاب الطلاق اور قاضیوں کا فرض قرار دیا گیا ہے تاکہ طلاق یا خلع عام نہ ہو جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اِنَّ ابَعضَ الْحَلَالِ عِندَ الله الطلاق یعنی حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز خدا تعالیٰ کے نزدیک طلاق ہے۔جب طلاق حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے تو ایک مومن جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہے وہ اس چیز کے کس طرح قریب جا سکتا ہے جس کے متعلق وہ سمجھتا ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے، ہر کام جو جائز ہے ضروری نہیں کہ اسے کیا بھی جائے۔ہر شخص جانتا ہے کہ بنارس، کلکته، مدراس یا بمبئی وغیرہ جانا حلال ہے لیکن کتنے ہیں جو ان جگہوں میں گئے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ ہر حلال بات پر عمل کرناضروری نہیں۔لیکن جب بیوی کو طلاق دینے کا معاملہ پیش آجائے تو یہ کہتے ہوئے کہ بیوی کو طلاق دینا جائز ہے فوراً بے سوچے سمجھے اسے طلاق دے دی جاتی ہے۔حالانکہ بعض حلال چیزیں انسان اپنے نفس کی خاطر بعض اپنے دوستوں کی خاطر اور بعض سوسائٹی کی خاطر ہمیشہ چھوڑ تا رہتا ہے در حقیقت ایسے موقعہ پر ایک مومن کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اس حلال کو خدا تعالیٰ کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ چونکہ یہ کام میرے خدا کو پسند نہیں اس لئے میں یہ کام نہیں کرتا تامیر اخدا مجھ پر ناراض نہ ہو۔پس رُشد و ہدایت یہ نہیں کہ طلاق کو عام کیا جائے۔بلکہ رشد و ہدایت یہ ہے کہ طلاق سے بچنے کی کوشش کی جائے۔حلال کے معنے یہ ہیں کہ چاہو تو کر سکتے ہو۔یہ قانون کے لحاظ سے منع نہیں لیکن تمہیں دوسروں کے خیالات، دوسروں کے جذبات، دوسروں کی ہمدردی اور دوسروں کے پیار کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔جس حلال پر عمل کرنے سے دوسروں کے خیالات، دوسروں کے جذبات، دوسروں کی ہمدردی اور دوسروں کے پیار کا خون ہوتا ہو ، وہ حلال نہیں بلکہ ایسا حلال ایک جہت سے حلال ہے اور دوسری جہت سے حرام ہے۔جب لوگ اپنے دوستوں کی ناراضگی اور قوم کی ناراضگی کا خیال رکھتے ہیں تو کیا خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہی ایسی چیز ہے جس سے انسان کو بے پر واہ ہو جانا چاہیے۔کیا خد اتعالیٰ کا وجود ہی ایسا کمزور ہے کہ جس کی ناراضگی انسان کے لئے قابل اعتناء نہیں۔جب دنیوی اور سفلی عشق رکھنے والے لوگ اپنے محبوب کی چھوٹی سے چھوٹی خفگی سے بھی ڈرتے ہیں۔اور اُس کو ناراض ہونے کا موقعہ نہیں دیتے تو ایک مومن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پڑھ کر یا سن کر کہ اِنَّ ابغَضَ الْحَلَالِ عِنْدَ اللهِ