صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 179
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۷۹ ۶۷ - كتاب النكاح فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ؟ قَالَ نے کہا: ہاں۔ آپ نے پوچھا: باکرہ کہ شیبہ ؟ کہتے فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ أَمْهِلُوا تھے، میں نے کہا: شیبہ۔ آپ نے فرمایا: باکرہ حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلًا أَيْ عِشَاء لِكَيْ کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے تَمْتَشِطَ الشَّعِئَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ۔ كھيلتی؟ حضرت جابر کہتے تھے: جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم شہر کے اندر جانے لگے ، آپ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ رات کو داخل ہونا یعنی عشاء کے وقت تا کہ جس کے بال پراگندہ ہوں وہ کنگھی کر رے اور جس کا خاوند غیر حاضر رہا ہو وہ استرالے۔ أطرافه: ٤٤٣ ، ۱۸۰۱ ، ۲۰۹۷ ، ۲۳۰۹، ۲۳۸۵، ٢۳۹۴، ٢٤٠٦ ، ٢٤٧٠، ٢٦٠٣، ٢٦٠٤، ،٥٠ ٥٢٤٣۸۰ ،۵۰۷۹ ،۴۰۵۲ ، ۳۰۹۰ ، ۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،۲٢٨٦١، ٩٦٧ ،۲۷۱۸ -٥٢٤٤، ٥٢٤٥، ٥٢٤٦، ٥٣٦٧ ٦٣٨٧ بَاب ۱۲۳ : وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ إِلَى قَوْلِهِ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَتِ النِّسَاءِ ( النور : ٣٢) اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں مگر اپنے خاوندوں کے لئے یا اپنے باپوں یا اپنے خاوندوں کے باپوں یا اپنے بیٹوں کے لئے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لئے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں یا اپنی بہنوں کے بیٹوں یا اپنی عورتوں یا اپنے زیر نگیں مردوں کے لئے یا مردوں میں ایسے خادموں کے لئے جو کوئی (جنسی) حاجت نہیں رکھتے یا ایسے بچوں کے لئے جو عورتوں کی پردہ دار جگہوں سے بے خبر ہیں ٥٢٤٨ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۵۲۴۸: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اخْتَلَفَ النَّاسُ بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ ابو حازم ( سلمہ بن دینار ) سے روایت کی۔ اُنہوں جُرْحُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کہا: لوگوں نے آپس میں اختلاف کیا ہے کہ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ؟ فَسَأَلُوا سَهْلَ بْنَ جنگ اُحد میں کس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَكَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ وسلم کے زخم کا علاج کیا گیا تو انہوں نے حضرت