صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 168 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 168

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۶۸ ۶۷ - كتاب النكاح ٥٢٣٣ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۵۲۳۳ : علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو عَنْ أَبِي سفيان بن عیینہ ) نے ہمیں خبر دی کہ عمرو (بن مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى دينار) نے ہم سے بیان کیا، عمرو نے ابو معبد سے، اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ ابو معبد نے حضرت ابن عباس سے، حضرت بِامْرَأَةِ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَم فَقَامَ رَجُلٌ ابن عباس نے نبی علی الم سے روایت کی۔ آپ نے فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَتِي خَرَجَتْ فرمایا: کوئی مرد کسی عورت کے پاس تنہانہ رہے سوا حَاجَّةً وَاكْتَبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا اِس کے کہ اُس کے ساتھ محرم ساتھ محرم بھی ہو۔ (یہ سن کر) علیہم ایک شخص کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! میری وَكَذَا۔ قَالَ ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ۔ بیوی حج کے لئے نکلی ہے اور میرا نام فلاں فلاں أطرافه: ١٨٦٢، ٣٠٠٦، ٣٠٦١۔ غزوہ میں لکھا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: واپس چلے جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ بَاب ۱۱۲ : مَا يَجُوزُ أَنْ يَخْلُوَ الرَّجُلُ بِالْمَرْأَةِ عِنْدَ النَّاسِ لوگوں کے پاس ہوتے ہوئے مرد کا عورت سے الگ ہو کر بات کرنا جائز ہے ٥٢٣٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۵۲۳۴ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامٍ نے ہمیں بتایا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہم سے قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ بیان کیا۔ شعبہ نے ہشام (بن زید ) سے، ہشام اللهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ایک انصاری عورت وَسَلَّمَ فَخَلَا بِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّكُمْ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ نے اس کے ساتھ ایک طرف الگ ہو کر باتیں کیں۔ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ۔ أطرافه: ٣٧٨٦، ٦٦٤٥- آپ نے فرمایا: (اے انصار!) اللہ کی قسم ! تم لوگ میرے بہت پیارے ہو۔