صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 167
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۶۷ ۶۷ - كتاب النكاح کھو بیٹھے ہیں۔ ان کی غیرت جس سے سارا جہان لرزاں تھا، آج ان سے مفقود ہو چکی ہے اور بدکاری جو خوف کے مارے ان کی دہلیزوں کے پاس پھٹکنے کی جرات بھی نہ کر سکتی تھی۔ آج ان کے آنگنوں میں ہر قسم کے بے حیائی کے تماشے کر رہی ہے اور انہیں احساس تک نہیں۔ شراب جس کی بو سے بیزار تھے آج ان کی گھٹی میں ہے۔ ان کے گھر رانڈوں سے بھرے پڑے ہیں اور اس جنگ عظیم (اول) نے تو وہ تباہی ڈالی ہے کہ یہ سارے نظارے ہم نے اپنی آنکھوں سے ممالک اسلامیہ میں دیکھے ہیں۔ اس جنگ کے بعد الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ کے عذاب کا نظارہ ایسے جلالی رنگ سے پورا ہوا ہے کہ سارا یورپ اب تک پیچ وپکار کر رہا ہے۔ گویا مسلمانوں کی تباہی جو دجالی فتنہ کے ذریعہ سے مقدر تھی وہ ایک ایسی ہولناک صورت میں ظاہر ہوئی کہ تمام جہان اس میں مبتلا ہو گیا۔“ ( ترجمه و شرح صحیح بخاری، کتاب العلم ، باب رفع العلم وظهور الجهل، جلد اول صفحه ۱۵۶،۱۵۵) بَاب ۱۱۱ : لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا ذُو مَحْرَمٍ محرم کے سوا کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہا نہ رہے وَالدُّخُولُ عَلَى الْمُغِيبَةِ۔ اور جس کا خاوند غیر حاضر ہو اس کے پاس (نہ) جانا۔ Q ٥٢٣٢ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۵۲۳۲ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ (بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یزید بن ابی عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ حبیب سے، یزید نے ابوالخیر (مرثد بن عبداللہ ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے، اُنہوں نے حضرت عقبہ بن عامر سے قَالَ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ۔ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو عورتوں کے پاس جانے میں احتیاط کیا کرو۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمُو اِس پر ایک انصاری شخص نے کہا یارسول اللہ کیا خاوند کے قریبی رشتہ دار (بھائی) بھی؟ آپ نے الْمَوْتُ۔ فرمایا: یہ رشتہ دار تو موت ہیں۔