صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 161
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۶۱ ۶۷ - كتاب النكاح دَخَلْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أَتَيْتُ الْجَنَّةَ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں جنت میں فَأَبْصَرْتُ قَصْرًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا داخل ہوا یا (فرمایا:) جنت میں آیا تو ایک محل قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ دیکھا میں نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ کہنے لگے: عمر أَدْخُلَهُ فَلَمْ يَمْنَعْنِي إِلَّا عِلْمِي بن خطاب کا۔ میں نے چاہا کہ اُس کے اندر جاؤں مگر مجھے صرف اس بات نے روکا کہ میں تمہاری بِغَيْرَتِكَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا غیرت کو جانتا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب نے کہا: رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ۔ أطرافه: ٣٦٧٩، ٧٠٢٤- یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ نبی اللہ ! کیا میں آپ سے غیرت کروں گا؟ ٥٢٢٧ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا ۵۲۲۷ : عبد ان نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یونس أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سے ، یونس نے زہری سے، (زہری نے) کہا: قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ (سعید) بن مسیب نے مجھے خبر دی۔ اُنہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ فَقَالَ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا بیٹھے ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ فرمایا: میں سویا ہوا ہی تھا کہ میں نے اپنے آپ کو فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا قَالَ هَذَا لِعُمَرَ جنت میں دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت محل کے ایک طرف ہو کر وضو کر رہی ہے۔ میں فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا۔ فَبَكَى عُمَرُ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ ثُمَّ قَالَ أَو نے پوچھا: یہ مل کس کا ہے؟ کسی نے کہا: یہ عمر کا ہے۔ پھر میں نے اُن کی غیرت کا خیال کیا اور پیٹھ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ۔ أطرافه: ٣٢٤٢، ٣٦٨٠، ٧٠٢٣ ٧٠٢٥۔ موڑ کر واپس چلا آیا۔ یہ سن کر حضرت عمر رو پڑے وہ اُس مجلس میں ہی تھے۔ پھر اُنہوں نے کہا: کیا آپ سے یا رسول اللہ میں غیرت کروں گا؟