صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 156
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۵۶ ۶۷ - كتاب النكاح تک پہنچے ہوئے تھے ایسے بیوقوف ضرور کثرت ازدواجی کا الزام اسلام پر لگائیں گے مگر تاریخ کے جاننے والے اس بات کا اقرار کریں گے کہ قرآن نے ان رسموں کو گھٹایا ہے نہ کہ بڑھایا پس جس نے تعدد ازدواج کی رسم کو گھٹایا اور نہایت ہی کم کر دیا اور صرف اس اندازہ پر جواز کے طور پر رہنے دیا جس کو انسان کی تمدن کی ضرورتیں کبھی نہ کبھی چاہتی ہیں کیا اس کو کہہ سکتے ہیں کہ اُس نے شہوت رانی کی تعلیم سکھائی ہے ؟ “ آریہ دھرم، روحانی خزائن، جلد ۱۰ صفحه ۴۴، ۴۵) بَاب ۱۰۷ : الْغَيْرَةُ غیرت کھانا وَقَالَ وَرَّادٌ عَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ سَعْدُ بْنُ اور وزاد نے حضرت مغیرہ بن شعبہ) سے نقل کیا عُبَادَةَ لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي که سعد بن عبادہؓ نے کہا کہ اگر میں اپنی بیوی کے لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ۔ فَقَالَ ساتھ کسی شخص کو دیکھوں تو اس کو تلوار سے اُڑا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دوں جو خطا نہ جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ ؟ لَأَنَا أَغْيَرُ فرمایا: کیا تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو ؟ میں تو اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي سے زیادہ غیرت مند ہے ٥٢٢٠ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ۵۲۲۰ عمر بن حفص بن غیاث) نے ہم سے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنْ بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے شقیق (بن سلمہ ) سے، شقیق نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے، النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ حضرت عبد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ سے بڑھ کر کوئی ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ وَمَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ۔ أطرافه: ٤٦٣٤، ٤٦٣٧ ، ٧٤٠٣۔ غیرت مند نہیں اس لئے اُس نے بے حیائی کے کام حرام کر دیے اور کوئی ایسا نہیں ہے جس کو اللہ سے بڑھ کر تعریف پسند ہو۔