صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 148 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 148

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۴۸ ۶۷ - كتاب النكاح ارم سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا أَوْ حَيَّةً تَلْدَغْنِي حفصہ سوار تھیں۔ آپ نے انہیں السلام علیکم کہا، وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا۔ پھر چل پڑے۔ یہاں تک کہ پڑاؤ کیا۔ حضرت عائشہ آپ سے محروم رہیں۔ جب اُنہوں نے پڑاؤ کیا تو حضرت عائشہ نے اپنے دونوں پاؤں اذخر گھاس میں ڈال دیے اور کہنے لگیں: اے رب مجھ پر کسی بچھو یا سانپ کو مسلط کر جو مجھے کاٹ کھائے اور میں آپ سے کچھ کہہ نہیں سکتی۔ باب ۹۸ : الْمَرْأَةُ تَهَبُ يَوْمَهَا مِنْ زَوْجِهَا لِضَرَّتِهَا وَكَيْفَ يَقْسِمُ ذَلِكَ جو عورت اپنی باری کو جو اُس کے خاوند سے مقررہے اپنی سوکن کو ہبہ کردے اور یہ باری کیونکر تقسیم کرے ٥٢١٢ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۵۲۱۲ : مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زهير بن معاویہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عَائِشَةَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ ہشام سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، اُن کے باپ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ حضرت سودہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ بِيَوْمِهَا بنت زمعہ نے اپنی باری حضرت عائشہ کو ہبہ کر دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے وَيَوْمِ سَوْدَةَ۔ پاس اُن کی باری میں اور حضرت سودہ کی باری میں آیا کرتے تھے۔ أطرافه: ٢٥٩٣ ، ٢٦٣٧ ، ٢٦٦١ ، ۲٦٨٨ ، ۲۸۷۹، ٤۰۲۵، ٤١٤١ ، ٤٦٩٠، ٤٧٤٩، ٤٧٥٠، -٧٥ ٧٥٤٥۰۰ ،۷۳۷۰ ،٤٧٥٧، ٦٦٦٢ ، ٦٦٧٩، ٧٣٦٩ باب ۹۹ : الْعَدْلُ بَيْنَ النِّسَاءِ عورتوں کے درمیان انصاف کرنا وَ لَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ (اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) اور تم یہ توفیق نہیں پاسکو