صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 143 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 143

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۴۳ ۶۷ - كتاب النكاح تشریح : باب ۸۹ سے باب ۹۵ میں عورتوں کے مردوں پر اور مردوں کے عورتوں پر حقوق کا ذکر ہے۔ اسلام کی تعلیم کا ہر پہلو جامع اور مکمل صورت پیش کرتا ہے عور تیں جنہیں آج کے محاورہ میں صنف نازک کہا جاتا ہے بانی اسلام نے چودہ سو سال پہلے انہیں آبگینے کہہ کر ان کی نزاکت طبع کا نہایت لطیف رنگ میں بیان کر دیا اور ان کے جملہ حقوق کی حفاظت کی ان کا ازدواجی حق ان کا نان و نفقہ اور رہائش و دیگر تمام ضروریات زندگی کا مرد کو مکلف کیا اور مرد کے حقوق میں ازدواجی حقوق کے ساتھ مرد کے مال گھر اور بچوں کی ذمہ داری عورت پر ڈالی مگر بعض صورتوں میں اصلاح احوال کی خاطر وقتی علیحدگی اور انتہا کی صورت میں کسی قدر سختی کو بھی روا رکھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اس تعلیم کی کامل تصویر پیش کرتا ہے۔ آپ نے کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہیئں اور فرمایا: ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے اور در حقیقت یہ ہم پر اتمام نعمت ہے۔ اس کا شکر یہ ہے کہ ہم عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔“ بَاب ٩٦ : الْعَزْلُ عزل کرنا ( ملفوظات، جلد اول، صفحہ ۳۰۷) ٥٢٠٧ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى :۵۲۰۷ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی بن بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ سعید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن جریج سے، عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ ابن جریج نے عطاء ( بن ابی رباح) سے، عطاء نے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ حضرت جابر سے روایت کی۔ اُنہوں نے فرمایا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کیا أطرافه: ٥٢٠٨، ٥٢٠٩ کرتے تھے۔ ٥٢٠٨ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۵۲۰۸ : علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِي کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں