صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 142 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 142

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۴۲ ۶۷ - كتاب النكاح أَصِلَ فِي شَعَرِهَا فَقَالَ لَا إِنَّهُ قَدْ سے اِس کا ذکر کیا وہ کہنے لگی کہ اس کے خاوند نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کے بالوں میں پیوند لُعِنَ الْمُوصِلَاتُ۔ طرفه: ٥٩٣٤ لگاؤں۔ آپ نے فرمایا: ہر گز نہیں۔ دیکھو بالوں کو پیوند لگانے والیوں کو لعنت کی گئی ہے۔ باب ٩٥ : وَ إِنِ امْرَأَةً خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا ( النساء: ١٢٩) یعنی اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے نفرت یا اعراض کا خوف کرے ٥٢٠٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ۵۲۰۶ : محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابو معاویہ (محمد بن خازم) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَ نے شام سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، اُن کے إِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وَ إِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُورًا یعنی إعْرَاضًا ۔۔۔ (النساء : ۱۲۹) قَالَتْ هِيَ الْمَرْأَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَا يَسْتَكْثِرُ اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے مخاصمانہ رویے یا عدم توجہی کا خوف کرے۔ حضرت مِنْهَا فَيُرِيدُ طَلَاقَهَا وَيَتَزَوَّجُ غَيْرَهَا عائشہ فرماتی ہیں: ہیں: اس سے مراد وہ عورت ہے جو تَقُولُ لَهُ أَمْسِكْنِي وَلَا تُطَلَّقْنِي ثُمَّ کسی مرد کے پاس ہو وہ اس ہ اُس کے ساتھ زیادہ میل تَزَوَّجُ غَيْرِي فَأَنْتَ فِي حِلَّ مِنَ جول نہیں رکھتا اور اُس کو طلاق دینا چاہتا ہے اور النَّفَقَةِ عَلَيَّ وَالْقِسْمَةِ لِي فَذَلِكَ دوسری سے شادی کرنا چاہتا ہے وہ اُس سے کہتی قَوْلُهُ تَعَالَى فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ ہے مجھے اپنے پاس رہنے دو اور طلاق نہ دو، میرے يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحاً وَ الصُّلْحُ خَيْرٌ ۔ سوا کسی اور سے شادی کر لو تم میرے لئے خرچ (النساء: ١٢٩) أطرافه: ٢٤٥٠، ٢٦٩٤، ٤٦٠١۔ کرنے اور باری مقرر کرنے سے بھی آزاد ہو۔ تو یہ مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے یعنی اُن پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ آپس میں ایسی صلح کریں جو صلح کا حق ہے اور صلح ہی بہتر ہوتی ہے۔