صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 100
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۰۰ ۶۷ - كتاب النكاح عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ۔ أَنَسٌ إِنَّهُ خَدَمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله بلایا جائے تم اندر جاؤ اور جب تم کھا چکو تو منتشر ہو جایا کرو اور باتوں میں مزے لینے نہ لگ جایا کرو۔ یہ بات نبی کو تکلیف دیتی تھی اور وہ تم سے شرماتا تھا۔ اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں جھینپتا۔ ابو عثمان ( جعد بن دینار ) نے کہا کہ حضرت انس کہتے تھے: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی۔ أطرافه: ٤٧٩١ ، ٤٧٩٢ ، ٤٧٩٣، ٤٧٩٤، ٥١٥٤، ٥١٦٦، ٥١٦٨، ۵۱۷۰، ۵۱۷۱، -٥٤٦٦، ٦٢٣٨، ٦٢٣٩، ٦٢٧١، ٧٤٢١ بَاب ٦٥ : اسْتِعَارَةُ الرِّيَابِ لِلْعَرُوسِ وَغَيْرِهَا دلہن کے لئے کپڑے وغیرہ عاریہ لینا ٥١٦٤ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۵۱۶۴ : عبید بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ کہ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام ( بن عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا عروہ) سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے حضرت اسماء سے ہار لیا تھا اور وہ ہار لیا تھا اور وہ ضائع ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ نَاسًا مِّنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا فَأَدْرَكَتْهُمُ میں سے کچھ لوگوں کو اس کی تلاش میں بھیجا اور الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَلَمَّا أَتَوْا انہیں نماز کا وقت آگیا اور انہوں نے بغیر وضو ہی النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا نماز پڑھ لی۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ذَلِكَ إِلَيْهِ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ فَقَالَ آئے تو انہوں نے آپ سے اس کا شکوہ کیا۔ تب أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكِ اللهُ خَيْرًا تیم کی آیت نازل ہوئی۔ اور حضرت اسید بن حضیر فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ (حضرت عائشہ سے) کہنے لگے: اللہ آپ کو بہتر اللهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجُعِلَ لِلْمُسْلِمِينَ بدلہ دے۔ کیونکہ اللہ کی قسم ! آپ سے کبھی کوئی