صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 98 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 98

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۹۸ ۶۷ - كتاب النكاح عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ مَا كَانَ مَعَكُمْ انصاری شخص کے پاس رخصتانہ کیا۔ اللہ کے نبی لَهُمْ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُعْجِبُهُمُ اللَّهْوُ ۔ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تمہارے ساتھ کچھ گانا بجانا نہ تھا؟ کیونکہ انصار گانا بجانے سے خوش ہوتے ہیں۔ بَاب ٦٤ : الْهَدِيَّةِ لِلْعَرُوسِ دلہن کو ہدیہ دینا ٥١٦٣ : وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِي ۵/۶۳ اور ابراہیم (بن طہمان) نے ابو عثمان عُثْمَانَ - وَاسْمُهُ الْجَعْدُ - عَنْ أَنَسِ سے کہا۔ اور ان کا نام جعد ( بن دینار ) تھا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی۔ انہوں بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَرَّ بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي نے کہا: حضرت انس بنی رفاعہ کی مسجد میں ہمارے رِفَاعَةَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ سامنے سے گزرے۔ میں نے ان کو یہ کہتے سنا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قاعدہ تھا کہ جب وہ بِجَنَبَاتِ أُمَّ سُلَيْمٍ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَلَّمَ حضرت ام سلیم کے پڑوس سے گزرتے تو ان کے عَلَيْهَا ۔ ثُمَّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ پاس آتے اور ان کو سلام کہتے۔ پھر حضرت انس لرقم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ فَقَالَتْ لِي نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت زینب سے أُمُّ سُلَيْمٍ لَوْ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّی شادی ہوئی تو مجھ سے حضرت ام سلیم نے کہا: اگر اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً فَقُلْتُ لَهَا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ہدیہ بھیجیں افْعَلِي۔ فَعَمَدَتْ إِلَى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَ أَقِطٍ فَاتَّخَذَتْ حَيْسَةً فِي بُرْمَةٍ (تو اچھا ہے) میں نے ان سے کہا: بھیجیں۔ انہوں نے کچھ کھجوریں اور گھی اور پنیر لیا اور ان سے ہانڈی میں حلوہ بنایا اور میرے ذریعہ وہ حلوہ آپ کو بھیجا۔ فَأَرْسَلَتْ بِهَا مَعِي إِلَيْهِ فَانْطَلَقْتُ بِهَا میں وہ لے کر آپ ۔ آپ کے پاس گیا۔ آپؐ نے فرمایا: إِلَيْهِ فَقَالَ لِي ضَعْهَا۔ ثُمَّ أَمَرَنِي فَقَالَ اس کو رکھ دو۔ پھر آپ نے مجھے حکم دیا اور فرمایا: ادْعُ لِي رِجَالًا - سَمَّا هُمْ - وَادْعُ لِي میرے پاس کچھ آدمی بلاؤ۔ آپؐ نے ان کا نام لیا